ہولی فیملی اسپتال میں ڈاکٹرز کا انوکھا کارنامہ، زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا

راولپنڈی(بولونیوز)ہولی فیملی اسپتال میں نئے سال کی آمد پر ایک نہایت حیران کن اور تشویشناک واقعہ پیش آیا، جہاں ڈاکٹرز نے زندہ نومولود بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔ لواحقین کے مطابق اسپتال نے بچے کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے تحریری طور پر ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی دیا، جس میں کہا گیا کہ “میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے”۔

تفصیلات کے مطابق نومولود بچے کی پیدائش گزشتہ روز ماں روبینہ کے ہاں ہوئی تھی، تاہم پیدائش کے فوراً بعد بچے کی حالت نازک تھی۔ اسپتال کے عملے نے بچے کی کمزور حالت کو دیکھتے ہوئے جلدبازی میں اسے مردہ قرار دے دیا اور ڈاکٹر طیبہ صدف کے دستخط اور مہر کے ساتھ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔

لواحقین جب مبینہ ’میت‘ وصول کرنے آئے تو انہیں شدید حیرت کا سامنا ہوا، کیونکہ نومولود سانس لے رہا تھا اور اس کے منہ پر آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا۔ خاندان نے بچے کو فوراً عملے کی نشاندہی کی جس کے بعد بچے کو فوری طور پر وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا۔

اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اختر محمود ملک کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ لیزارس سنڈروم کے باعث پیش آیا — ایک نایاب طبی کیفیت جس میں مریض کو موت ظاہر ہونے کے بعد دوبارہ سانس آنا شروع ہو سکتا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق نومولود میں بظاہر یہی علامات ظاہر ہوئیں جس کے باعث غلط فہمی پیدا ہوئی اور ڈاکٹرز نے اسے مردہ تصور کر لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *