سندھ میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا، گندم کی سپلائی کرپشن کی نذر
کراچی/حیدرآباد(بولونیوز)سندھ میں گندم کی فراہمی میں رکاوٹوں اور مبینہ کرپشن کے باعث آٹے کا بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے سبسڈی پر گندم کی تقسیم کے ذریعے مارکیٹ کو مستحکم کرنے کی تازہ کوششیں بھی ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق فلور مل مالکان نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ خوراک کے اہلکار سرکاری گوداموں سے گندم کے ذخائر جاری کرنے کے عوض 1,000 سے 1,200 روپے فی بوری رشوت طلب کر رہے ہیں، جس کے باعث انہوں نے سرکاری گندم اٹھانے سے انکار کر دیا ہے۔ مل مالکان نے احتجاجاً کھلی منڈی سے مہنگے داموں گندم خریدنا شروع کر دی، جس کا براہ راست اثر صارفین پر پڑا ہے۔
خوردہ مارکیٹ میں 5 کلو آٹے کا تھیلا 630 روپے تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ کچھ ملیں مبینہ طور پر 650 روپے تک وصول کر رہی ہیں۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب اطلاعات سامنے آئیں کہ سبسڈی اسکیم میں شامل کیے گئے بعض تاجروں نے رعایتی نرخوں پر حاصل کی گئی گندم کو محکمہ خوراک کے اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے کھلی منڈی میں مہنگے داموں فروخت کر دیا۔ فلور مل مالکان نے اس اقدام کو مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے اور سپلائی چین میں بگاڑ کا سبب قرار دیا ہے۔
فلور مل اونرز سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں، جس کی صدارت حاجی محمد میمن نے حیدرآباد پریس کلب میں کی، تاجروں کو سبسڈی اسکیم میں شامل کرنے کی سخت مخالفت کی گئی۔ اراکین نے انتباہ کیا کہ ایسی پالیسیاں مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے نئے دروازے کھول رہی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق محکمہ خوراک سندھ آٹے کے بحران کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ انہوں نے گندم کے مختص کوٹے کو ناکافی قرار دیا اور سرکاری گوداموں میں ذخیرہ شدہ گندم کے معیار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوداموں میں موجود گندم انسانی استعمال کے قابل نہیں اور اس کی فوری لیبارٹری ٹیسٹنگ ضروری ہے۔
اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ
فلور ملز کا گندم کوٹہ بڑھایا جائے،
معیاری اور صاف گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے،
اور فوڈ سپلائی چین میں بدعنوانی کے تمام راستے بند کیے جائیں۔


