سندھ حکومت کا بڑا اقدام: 715 خطرناک عمارتیں ناقابل رہائش قرار، مکینوں کو خالی کرانے کا عمل جاری
کراچی(بولونیوز)سندھ بلدیات کے وزیر سید ناصر حسین شاہ کے خصوصی احکامات پر ٹیکنیکل کمیٹی برائے خطرناک عمارات (SBCA) نے صوبہ سندھ میں 715 عمارتوں کو ناقابل رہائش اور ناقابل استعمال قرار دے دیا ہے اور ان کے مکینوں کو خالی کرانے کا مرحلہ وار عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں کراچی کی متعدد مخدوش عمارتوں کو زمین بوس کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر پر انہدامی کارروائی جاری ہے۔ خطرناک عمارتوں کی فہرست کے مطابق:
کراچی: 563
حیدرآباد: 81
سکھر: 60
میرپورخاص: 7
لاڑکانہ ریجن: 4
کراچی کے اضلاع میں صورتحال:
ڈسٹرکٹ ساؤتھ: 422
ڈسٹرکٹ سینٹرل: 72
ڈسٹرکٹ کیماڑی: 28
ڈسٹرکٹ کورنگی: 18
ڈسٹرکٹ ایسٹ: 16
ڈسٹرکٹ ملیر: 5
دوسرے مرحلے میں خطرناک عمارتوں پر بینر آویزاں کیے جائیں گے اور لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے مکینوں کو اطلاع دی جائے گی تاکہ شہریوں کو آگاہی اور احتیاط کی تلقین کی جا سکے۔
ایس بی سی اے نے عوام سے درخواست کی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر گنجان آباد علاقوں میں مخدوش، غیرمعیاری یا غیرقانونی عمارتوں کی نشاندہی کریں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
شہری ایس بی سی اے کو درج ذیل ذرائع سے اطلاع دے سکتے ہیں:
فون نمبر: 99232355
ویب سائٹ: www.sbca.gos.pk
یہ مہم عوام کے تحفظ اور انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے شروع کی گئی ہے۔


