ڈی ایس پی عثمان حیدر کی اہلیہ اور بیٹی کے قتل کا معمہ حل، ملزم گرفتار
لاہور(بولونیوز) رواں برس پنجاب پولیس کے حاضر سروس ڈی ایس پی محمد عثمان حیدر نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ 27 ستمبر سے لاپتا ہونے والی ان کی اہلیہ اور بیٹی کے فون بند ہونے کے بعد سسرال والوں کو بھی کوئی علم نہیں تھا۔
ابتدائی تفتیش میں پولیس نے عثمان حیدر اور ان کے اہل خانہ کا کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) حاصل کیا اور ایک ہزار نمبروں کی جانچ پڑتال کی۔ ابتدائی مراحل میں کسی سراغ یا دھمکی کا پتہ نہیں چل سکا، جس کی وجہ سے کیس ایک جگہ رک گیا۔
تاہم سی ڈی آر کے تجزیے میں 25 ستمبر کی رات ساڑھے دس بجے سے ساڑھے تین بجے تک عثمان حیدر کے موبائل فون کے بند رہنے کے دوران غیر معمولی سرگرمی سامنے آئی، جس سے شکوک و شبہات اُن کی جانب منتقل ہوئے۔
پولیس نے گھر اور سرکاری گاڑی کا فورینزک معائنہ کیا، جہاں بیسن، واش روم اور بیڈ سے خون کے آثار اور گاڑی کی سیٹ کے فوم میں کافی مقدار میں خون کے دھبے ملے، جو شواہد کا اہم حصہ بن گئے۔
ڈی آئی جی انویسٹیگیشن سید ذیشان رضا کی نگرانی میں ایس پی ایاز حسین کی سربراہی میں خصوصی تفتیشی ٹیم نے عثمان حیدر سے تمام شواہد کے بعد انکشاف کروا لیا۔ ملزم نے خود پولیس کو شیخوپورہ لے جانے اور اہلیہ و بیٹی کی لاشیں ظاہر کرنے کا کہا۔
عثمان حیدر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کی لاش فیروزوالہ تھانے کی حدود میں نالے میں پھینکی، جبکہ بیٹی کی لاش تھانہ کاہنہ کے قریب میلہ رام گاؤں کی ندی میں پھینکی گئی۔ ریکارڈ کے مطابق 5 اور 27 اکتوبر 2025 کو انہی مقامات سے نامعلوم لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جو بعد ازاں پوسٹ مارٹم کے بعد دفن کر دی گئی تھیں۔
ملزم کی گرفتاری اور شواہد کی بنیاد پر پولیس نے اس سنگین کیس کو حل کر کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے کامیاب کارروائی کی مثال قائم کی ہے۔


