سی آئی اے اسپیشلائزڈ انویسٹی گیشن کا اسکینڈل بے نقاب 28 کروڑ کی منشیات 5 کروڑ میں فروخت، افسران معطل

کراچی(بولونیوز)سی آئی اے کے اسپیشلائزڈ انویسٹی گیشن یونٹ میں منشیات سے متعلق ایک سنگین اسکینڈل سامنے آ گیا ہے، جہاں 28 کروڑ روپے مالیت کی کیس پراپرٹی منشیات کو مبینہ طور پر صرف 5 کروڑ روپے میں فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ معاملے کا بھانڈا پھوٹنے کے بعد سب انسپکٹر اعجاز بٹ اور کانسٹیبل رحمت پر کیس پراپرٹی کی منشیات فروخت کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے گزشتہ دنوں 508 کلوگرام چرس اور آئس کی برآمدگی کے بعد پریس کانفرنس کی تھی۔ بعد ازاں تحقیقات میں یہ سنگین انکشافات سامنے آئے جس پر وزیر داخلہ نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔

وزیر داخلہ کی ہدایت پر ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے۔ ابتدائی شواہد کے مطابق منشیات فروخت کے اس کیس میں رشوت، گاڑی اور لاکھوں روپے وصول کرنے کے ٹھوس ثبوت سامنے آئے ہیں۔

تحقیقات کے دوران سائٹ ایریا اور پرانی سبزی منڈی سے فروخت کی گئی منشیات بھی برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ اس نیٹ ورک سے وابستہ منشیات فروشوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ مقدمات نمبر 315 تا 318/2025 میں کیس پراپرٹی میں ردوبدل اور جعلسازی کے شواہد بھی ملے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سب انسپکٹر اعجاز بٹ کا نام ماضی میں بھی منشیات فروشی کے اسکینڈلز میں سامنے آ چکا ہے، جبکہ اینٹی نارکوٹکس فورس کے چھاپے کے دوران فرار ہونے کا پرانا ریکارڈ بھی منظر عام پر آ گیا ہے۔

اسکینڈل میں مزید پولیس افسران اور اہلکاروں کی گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر کراچی پولیس چیف نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی واصف قریشی اور سب انسپکٹر اعجاز بٹ کو معطل کر دیا ہے، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *