بھارتی نیوی کی جانب سے 11 پاکستانی ماہی گیروں کی گرفتاری، کمسن بچہ بھی شامل

کراچی/ساحلی پٹی(بولونیوز)بھارتی نیوی نے ایک بار پھر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے 11 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں 10 سالہ کمسن بچہ ظہیر بھی شامل ہے۔ ظہیر جماعت سوم کا طالب علم ہے جو شوقیہ طور پر اپنے چچا کے ہمراہ سمندر میں مچھلی کے شکار کے لیے گیا تھا، تاہم اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ سفر بھارتی نیوی کی قید میں تبدیل ہو جائے گا۔

ذرائع کے مطابق تمام گرفتار ماہی گیر پاکستانی سمندری حدود میں مچھلی کے شکار میں مصروف تھے کہ اچانک بھارتی نیوی نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔ واقعے کے بعد ماہی گیروں کے گھروں میں کہرام مچ گیا ہے، جبکہ کمسن ظہیر کے اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا ہیں۔

کوسٹل میڈیا سینٹر اور ساحلی برادری نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف اور پاکستان میں سمندری امور سے وابستہ تمام متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے کمسن بچے سمیت تمام گرفتار پاکستانی ماہی گیروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کو یقینی بنائیں اور انہیں بحفاظت وطن واپس لایا جائے۔

ساحلی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ماہی گیر کسی جرم میں ملوث نہیں بلکہ روزگار کے لیے سمندر کا رخ کرتے ہیں۔ معصوم بچوں اور غریب ماہی گیروں کو قید کرنا بین الاقوامی انسانی قوانین اور بچوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *