اقدامِ قتل اور دہشت گردی ایکٹ کیس: قادری ہاؤس سے گرفتار 9 ملزمان عدالت میں پیش
کراچی(بولونیوز) پولیس مقابلہ، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے مقدمے میں ناظم نمبر 1 قادری ہاؤس سے گرفتار 9 ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا، جہاں عدالت نے ملزمان کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کا سی آر او (کرمنل ریکارڈ آفس) چیک کرانا ہے اور ان سے فرار ساتھیوں اور نیٹ ورک سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان بھتہ خوری کے منظم نیٹ ورک کا حصہ ہیں اور ان کے قبضے سے بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار ملزمان میں شاہ زیب عرف ملا، جواد قادری عرف واجہ اور شہباز خان شامل ہیں، جبکہ ان کے فرار ساتھیوں میں اویس عرف ڈاڈا، گل حسب و دیگر شامل ہیں۔
ملزمان کی جانب سے عابد زمان ایڈووکیٹ اور اسامہ علی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر اسامہ علی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان پر عائد تمام الزامات بے بنیاد ہیں، جبکہ عابد زمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ گرفتار افراد سیاسی کارکن ہیں اور انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کو پولیس مقابلہ، ناجائز اسلحہ رکھنے اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔


