ایبٹ آباد میں لرزہ خیز قتل: 67 تولے سونا واپس مانگنے پر لیڈی ڈاکٹر کو سہیلی نے قتل کروا دیا
ایبٹ آباد(بولونیوز)67 تولے سونے کے تنازعے نے ہولناک قتل کی واردات کو جنم دے دیا، جہاں بے نظیر شہید ڈسٹرکٹ اسپتال سے چار روز قبل اغوا ہونے والی لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق کو قتل کرکے جنگل میں دفن کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ نے اپنی قریبی دوست ردا کے پاس 2023 سے تقریباً 67 تولے سونے کے زیورات امانت کے طور پر رکھوائے تھے۔ واپسی پر سونا واپس مانگنے پر دوست نے مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت اسے قتل کروا دیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمہ ردا نے ڈاکٹر وردہ کو اپنے زیر تعمیر گھر بلایا اور وہاں موجود ساتھی ملزمان اورنگزیب اور ندیم کے حوالے کیا۔ ملزمان نے ڈاکٹر وردہ کو لڑی بنوٹا کے علاقے میں لے جا کر قتل کیا اور لاش جنگل میں دفن کر دی۔
پولیس نے ملزمہ ردا اور ندیم کی نشاندہی پر ٹھنڈیانی روڈ کے قریب دورافتادہ مقام سے مقتولہ کی لاش برآمد کرکے اسے ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر وردہ کو چار روز قبل ہسپتال سے اس کی خاتون دوست لے کر گئی تھی، جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئی تھیں۔ ابتدائی تحقیقات میں اغوا میں ملوث ہونے پر ردا اور اس کے شوہر کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
واقعے کے خلاف بے نظیر شہید اسپتال کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف سراپا احتجاج ہیں۔ اسپتال میں تمام سروسز معطل کر دی گئی ہیں جبکہ ڈاکٹرز عملے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے اور فوارہ چوک بند کرکے پولیس کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ مظاہرین نے اس لرزہ خیز قتل کو پولیس کی غفلت اور نااہلی قرار دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے اور تمام ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوانے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔


