علاقوں میں حفاظتی اقدامات نظرانداز،سندھ حکومت کی بددیانتی کے سواکچھ نہیں
کراچی(بولونیوز)مجلس وحدت مسلمین کےرہنما علامہ مبشرحسن نےنیپا چورنگی کے قریب کم سن ابراہیم کی مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے المناک واقعہ پر غم و غصے کااظہار کرتےہوئے اسے متعلقہ اداروں کو بدترین غفلت اور بے حسی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں بی آر ٹی ریڈ لائن اور نجی اسٹور کو ذمہ دار قرار دیے جانا اپنی نا اہلی کو چھپانے کی مذموم کوشش ہے۔ شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کےبغیرکسی ایک منصوبےیاادارے پر ڈال دیناسندھ حکومت کی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔حادثے کے اصل ذمہ داری کاتعین کر کے قرار واقعی سزا دینا ضروری ہے۔واقعے کو کسی منصوبے یا اسٹور سے جوڑ کر قیمتی انسانی جان کے ضیاع سے بری الذمہ نہیں ہواجا سکتا۔ مین ہول کوڈھکن لگانا کس ادارے کی براہ راست ذمہ داری بنتی تھی۔ایک پرہجوم علاقےمیں حفاظتی اقدامات کیوں نظر انداز کیے گئے۔ کیا متعلقہ افسران کی عارضی معطلی غمزدہ والدین کو ملنے والے اس گہرے زخم کا مرہم بن سکتا ہے؟یہ سنگین واقعہ غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اور سسٹم کی ناکامی پر دلالت کرتا ہے۔بیشتر حادثات پر من پسند اور خود ساختہ رپورٹس کو حکومتی دستاویزات میں شامل کر کے سانحات کی وجوہات کو ختم کر دیا جاتا ہے جس سے متاثرہ افراد کو انصاف نہیں ملتا۔ رپورٹ میں جن نکات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ حقیقت کے برعکس ہیں۔سندھ حکومت کی نااہلی اور عدم توجہی شہر کے موجودہ مسائل کی بنیادی وجہ ہے،حکومت کی جانب سے اس شہر پر نا اہل اور جعلی میئر مسلط کر دیا گیا ہے جس کو بچانے کی ناکام کوششیں کی جاری ہیں۔شہری روزانہ قاتل ڈمپروں،ٹوٹی سڑکوں،جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے مختلف حادثات کا شکار ہورہے ہیں۔صفائی ستھرائی، نکاسی آب، ٹریفک کنٹرول اور عوامی سہولتوں کی بگڑتی صورتحال نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔مگر حکومت ان مسائل کے سدباب کیلئے کوموثر اقدامات نہیں کرتی نہ ہی ان کی توجہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی تحقیقات کسی آزاد کمیٹی یا جوڈیشل انکوائری کے ذریعے کرائی جائے تاکہ ذمہ داران کا درست، شفاف اور غیرسیاسی تعین ہوسکے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مستقل حکمتِ عملی وضع کی جاسکے۔شہری مسائل کے مستقل حل کے لیے ہنگامی اقدامات اور شفاف حکمت عملی اختیار کی جائے۔


