پنجاب حکومت ہوش کے ناخن لے، ظلم وجبرکا نظام زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا
لاہور(بولونیوز) مساجد میں درود و سلام پڑھنے پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تو پھر ہر چوک، ہر محلے اور ہر گلی کوچے میں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوں گی-
جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے نمازِ جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گوجرہ، پنجاب میں موذن پر درود و سلام پڑھنے کے الزام میں قائم کیے گئے جھوٹے مقدمے کو اسلام، آئینِ پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے انہوں نے پنجاب حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کیونکہ ظلم و جبر کا نظام زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا درود و سلام پڑھنا عاشقانِ رسول ﷺ کا صدیوں سے قائم دینی اور روحانی عمل ہے، جس پر کسی قسم کی قدغن یا قانونی کارروائی ناقابلِ قبول ہیپاکستان کے غیور عوام مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے ان کا کہنا تھا کہ موذن پر جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات قائم کرنا ظلم اور مذہبی آزادی پر حملہ ہے اس مقدمے کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور جن افراد نے موذن کو نشانہ بنا کر یہ کارروائی کی انہیں گرفتار کرکے قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ اہلِ سنت کو دیوار سے لگانے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اگر مساجد میں درود و سلام پڑھنے پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تو پھر ہر چوک، ہر محلے اور ہر گلی کوچے میں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوں گی کیونکہ درود و سلام مسلمانوں کے ایمان کا لازمی جزو ہے، جسے روکنے کی کوششیں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی خطاب کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔


