کرپشن سے نہیں‌ لگن سے کھرب پتی بننے والا پاکستانی— ریحان جلیل

کراچی کے نوجوان ریحان جلیل کی اے آئی سیکیورٹی کمپنی Securiti AI کو امریکی کمپنی Veeam Software نے 1.7 ارب ڈالر میں خرید لیا۔ خریداری کے بعد ریحان جلیل Veeam کے صدر برائے سیکیورٹی و اے آئی کا عہدہ سنبھالیں گے — ریحان جلیل کراچی کے معیاری فاؤنڈیشن پر آمادہ نوجوان نہیں بلکہ ایک محنتی سپاہی ہیں جنہوں نے اپنے یقین، جذبے اور جدت کے علاوہ کسی خاندانی سہولت یا سرکاری پشت پناہی پر انحصار نہیں کیا۔ وہ پاکستان کے شہر کراچی میں واقع NED University of Engineering & Technology سے اپنی بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بیرونِ ملک تعلیم اور تجربے کے سفر پر روانہ ہوئے۔ انہوں نے اِس کے بعد امریکہ کے Purdue University سے ماسٹرز اور Harvard Business School کے ایڈوانس مینجمنٹ پروگرام سے فارغ التحصیل ہو کر ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کو منوایا۔ حقیقت یہ یے کہ پاکستان میں وہ ماحول غالب ہے جہاں میرٹ کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے، کرپشن روزمرہ کی کہانی بنتی جا رہی ہے، اور نوجوان ٹیلنٹ کو سرکاری سرپرستی تو کم، توجہ بھی کم ملتی ہے۔ ایسے وقت میں جب معاشرتی نظام خود ٹیلنٹ کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہو، ریحان نے عزم کے ساتھ کہا: “میں دکھاؤں گا کہ پاکستان کا نوجوان، پاکستان کا ٹیلنٹ عالمی سطح پر مقام بنا سکتا ہے۔” ان کی پہلی بڑی منزل تھی وائیکورس — ایک کمپنی جو انہوں نے قائم کی، جسے بعد میں امریکی کمپنی Tellabs نے خرید لیا۔ پھر انہوں نے Elastica نامی کلاؤڈ سیکیورٹی فرم بنائی، جسے امریکی کمپنی Blue Coat Systems نے تقریباً 280 ملین ڈالر میں خریدا۔ پھر اُن کی کمپنی Securiti AI نے جنم لیا — ایک ایسی ٹیکنالوجی کمپنی جو “ڈیٹا کمانڈ سینٹر” کی بنیاد پر کام کرتی ہے، یعنی اداروں کے حساس ڈیٹا، کلاؤڈ سروسز، SaaS ایپس اور مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں ڈیٹا کی حفاظت، انضباط اور گورننس یقینی بناتی ہے۔ اکتوبر2025 میں امریکی کمپنی Veeam Software نے اس کمپنی کو تقریباً **1.7 ارب ڈالر** میں خریدا — ایک تاریخی کامیابی، جو پاکستانی ٹیک ماحول کے لیے روشن دن کا نشاں ہے۔ اس معاہدے کے بعد ریحان جلیل کو ویم میں صدر برائے سیکیورٹی و اے آئی کا عہدہ ملے گا — یعنی وہ نہ صرف کمپنی کے بانی ہیں بلکہ اب عالمی سطح پر ڈیٹا و اے آئی سیکیورٹی کے رہنما بن گئے ہیں۔ جہاں سے اٹھے خواب وہیں بآلاخر بنتی ہے حقیقت، یعنی ریحان کی کہانی دراصل پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک ایسا پیغام ہے کہ اگر آپ نے کبھی سوچا کہ کیوں میرٹ کم ہے، کیوں ملازمتیں تعلقات یا پیسوں کی بنیاد پر ملتی ہیں، اور کرپشن حکمرانی بن چکی ہے — تو ریحان جلیل ہمیں ایک راستہ دکھاتے ہیں۔

Youtube - Human Rights Media Network
Youtube – Human Rights Media Network

* پہلا راستہ: **خواب دیکھو، ہمت کرو۔** ریحان نے کراچی سے اپنے سفر کا آغاز کیا، عالمی سطح پر جانے کا خواب دیکھا، اور اس کی تلاش میں نکلے۔

* دوسرا راستہ: **عمل کرو، محنت کرو۔** وہ تعلیمی سہولتوں کے منتظر نہیں رہے، نہ حکومت کا انتظار کیا، نہ سلسلہ دراز کیا — انہوں نے خود قدم اٹھایا، علم حاصل کیا، کام کیا، اور جدت کی راہ پر چل پڑے۔ تیسرا راستہ: **جذبہ اور مستقل مزاجی۔** مشکلات، رکاوٹیں، ماحول کے اندر بغاوت — یہ سب آپ کا حصہ ہو سکتے ہیں، لیکن اگر عزم مضبوط ہو تو راستہ بنتا جاتا ہے۔ * چوتھا راستہ: **ملک کا نام روشن کرو۔** اپنی کامیابی صرف ذاتی نہیں بناؤ — اسے ملک کی پہچان بناؤ۔ ریحان نے یہ کر دکھایا: وہ پاکستان کے نوجوان ہیں، پاکستان کے ٹیلنٹ کی علامت ہیں۔ پانچواں راستہ: **آگے بڑھو، رہنما بنو۔** جب آپ کامیاب ہوں، تو خود ہی روشنائی بنیں — دوسرے نوجوانوں کو مثال بنائیں، ماحول بدلنے کی کوشش کریں، میرٹ کی بات کریں، کرپشن کے خلاف، ٹیلنٹ کی حمایت میں۔ یہ کہانی صرف ایک بزنس سنگ میل کی نہیں، بلکہ **امید، قابلیت، عزت اور عزیمت** کی ہے۔ ایک نوجوان نے کہا: “میرے ملک میں اگر راستے کم ہیں، تو میں راستہ خود بناؤں گا” — اور اس نے ایسا ہی کر دکھایا، اگر آپ کے اندر جنون ہے، اگر آپ نے سوچا ہے کہ آپ نے کچھ بننا ہے، دنیا کو کچھ کر دکھانا ہے تو یہ وقت ہے اپنے اندر کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا۔ ریحان جلیل نے ثابت کیا ہے کہ **پاکستان کا نوجوان، پاکستان کا ٹیلنٹ، دنیا کے سامنے کم نہیں۔ اٹھو، محنت کرو، حکمت اختیار کرو، اور اپنے ملک کو وہ مقام دو جو اس کا حق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *