کراچی کی صنعت و تجارت تباہی کے دہانے پر، عید سیزن ملکی تاریخ کا بدترین قرار
کراچی(بولونیوز)چیئرمین آل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی ناقص حکمرانی کے باعث کراچی کا کاروبار، صنعت اور تجارت شدید متاثر ہو چکی ہے اور شہر معاشی طور پر آخری سانسیں لے رہا ہے۔
عتیق میر کا کہنا تھا کہ بھتہ خوری، چوری، ڈکیتی، آتشزدگی کے واقعات اور شارٹ ٹرم اغوا برائے تاوان جیسے جرائم نے کاروباری ماحول کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ان حالات کے نتیجے میں سرمایہ کاری رُک گئی ہے اور تاجر شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے رواں عید سیزن کو ملکی تاریخ کا بدترین سیزن قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث خریداری گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد کم رہی۔ عتیق میر کے مطابق تاجروں کا 70 فیصد سامان فروخت نہ ہو سکا، جبکہ عید کے موقع پر بمشکل 10 ارب روپے کا مال فروخت ہوا۔
چیئرمین آل کراچی تاجر اتحاد نے کہا کہ اگر فوری طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر نہ کی گئی اور تاجروں کو تحفظ فراہم نہ ہوا تو شہر کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ کاروباری برادری کے تحفظ اور معیشت کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔


