کراچی میں امریکی قونصل خانے پر دھاوا، مظاہرین پر فائرنگ امریکی مرینز نے کی
کراچی(بولونیوز)امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز کراچی میں قائم امریکی قونصل خانہ میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر امریکی فوجی اہلکاروں (مرینز) نے فائرنگ کی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دو امریکی سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ملک بھر میں ایران کے سپریم لیڈر کی مبینہ ہلاکت کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے، اور سفارتی مشن کی جانب سے طاقت کے استعمال نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی بیرونی دیوار توڑ کر کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق اس دوران 10 افراد گولیوں کا نشانہ بنے، تاہم امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا مرینز کی فائرنگ سے کوئی ہلاکت ہوئی یا نہیں۔
امریکی حکام کا مزید کہنا ہے کہ انہیں یہ بھی علم نہیں کہ آیا قونصل خانے کے عملے کے دفاع میں مقامی سکیورٹی گارڈز یا پولیس اہلکاروں نے بھی فائرنگ کی یا نہیں۔
پہلی باضابطہ تصدیق
یہ بیان اس بات کی پہلی باضابطہ تصدیق سمجھا جا رہا ہے کہ قونصل خانے کے اندر تعینات اہلکاروں نے مظاہرین پر براہِ راست گولیاں چلائیں۔ادھر سندھ حکومت کے ترجمان سکھدیو اسرداس ہیمنائی نے کہا کہ “سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی، تاہم انہوں نے اپنی وابستگی واضح نہیں کی۔”
سکیورٹی خدشات میں اضافہ
ماہرین کے مطابق عام طور پر امریکی سفارتی مشنز کی سکیورٹی نجی کنٹریکٹرز اور مقامی فورسز کے پاس ہوتی ہے، تاہم اس واقعے میں امریکی مرینز کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قونصل خانے کو خطرے کی سطح انتہائی سنگین محسوس کی گئی۔
🇵🇰 احتجاج اور پابندیاں
واضح رہے کہ ایران پر حملوں کے خلاف پاکستان میں احتجاجی مظاہرے پھیلنے کے بعد حکومت نے بڑے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے، تاہم اس کے باوجود ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران 26 افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
اتوار کے روز کراچی میں مظاہرین نے قونصل خانے کے باہر “امریکہ مردہ باد” کے نعرے لگائے۔ موقع پر موجود روئٹرز کے نمائندوں کے مطابق فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جبکہ قریبی علاقوں میں آنسو گیس کے شیل بھی داغے گئے۔
ویڈیوز اور عینی شاہدین
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کم از کم ایک شخص کو قونصل خانے کی سمت فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد خون میں لت پت مظاہرین کو فرار ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
کراچی پولیس کے ایک اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ فائرنگ قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے کی گئی۔
حکومتی ردعمل
امریکی مرینز نے واقعے کی مکمل رپورٹ اپنی فوجی قیادت کو ارسال کر دی ہے، جسے آگے امریکی محکمہ خارجہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم محکمہ خارجہ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب شیعہ برادری کے بعض رہنماؤں نے اجتماعات پر پابندی کے باوجود لاہور اور کراچی میں مزید مظاہروں کی کال دے دی ہے۔
سکیورٹی اقدامات سخت
امریکی سفارت خانہ اسلام آباد میں واقع ہے، جبکہ کراچی، لاہور اور پشاور میں امریکی قونصل خانے موجود ہیں۔ واقعے کے بعد کراچی میں قونصل خانے کی طرف جانے والی تمام سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ اسلام آباد اور لاہور میں بھی امریکی مشنز کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔


