خاندان کی کفالت کے لیے مردوں کا بھیس بدل کر کام کرنے والی افغان لڑکی گرفتار
افغانستان(بولونیوز)صوبہ ہلمند میں طالبان فورسز نے مردانہ لباس پہن کر ملازمت کرنے والی ایک کم عمر لڑکی کو گرفتار کر لیا ہے۔ واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے اور افغان خواتین کو درپیش مشکلات پر ایک بار پھر توجہ مبذول کرا دی ہے۔
13 سالہ نوریہ نامی لڑکی گزشتہ تین برس سے “نور احمد” کے نام سے ایک مقامی کیفے میں کام کر رہی تھی۔ نوریہ نے مردانہ لباس اور شناخت اختیار کر رکھی تھی تاکہ وہ روزگار حاصل کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر سکے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں نوریہ نے بتایا کہ اس کے والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل بن گئی تھی۔ شدید غربت اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث اسے مردوں کا بھیس بدل کر کام کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
نوریہ کا کہنا تھا کہ اس نے طویل عرصے تک اپنی شناخت چھپائے رکھی، تاہم بالآخر اس کا راز فاش ہو گیا، جس کے بعد طالبان فورسز نے اسے حراست میں لے لیا۔
اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے افغان خواتین اور بچیوں کو درپیش پابندیوں، معاشی مشکلات اور بنیادی حقوق کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واقعے نے ایک بار پھر افغانستان میں خواتین کے لیے تعلیم اور روزگار کے محدود مواقع اور سماجی مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔


