بلدیہ کراچی کے افسران اور محکمے حساس اداروں کے ریڈار پر

کراچی(بولونیوز) بلدیہ کراچی کے افسران اور محکمے حساس اور تحقیقاتی اداروں کے ریڈار پر آگئے ہیں، جبکہ انسانی حقوق اور کرپشن کے حوالے سے متعدد ہائی پروفائل تحقیقات شروع کی جا چکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، رضا عباس رضوی کی ہزاروں گز زمین مخصوص افراد کو لیز پر دی گئی اور سفیر اسپتال کو کمرشل موٹیشن دی گئی، جس پر اینٹی کرپشن اداروں نے تحقیقات کا آغاز کیا اور ملزم کو طلب کیا گیا ہے۔

مزید برآں، رضا عباس رضوی کی دو ہائی پروفائل انکوائریز، جن میں کراچی زوو میں کرپشن اور پی ڈی بس ٹرمینل کے بڑے معاملات شامل ہیں، بھی زیر تفتیش ہیں۔ گزشتہ دو سال سے افضل زیدی نے ان تحقیقات کو روک رکھا تھا، جبکہ امام بارگاہوں اور فلاحی زمینوں کی لیزیں بھی منظر عام پر آئیں۔

تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ جعلی موٹیشن اور ٹرانسفرز کے ذریعے زمینیں غیر قانونی طور پر بیچی گئی ہیں، جس میں فیصل رضوی بھی ملوث رہا۔ اس وقت اس کرپشن کے نیٹ ورک میں سیف عباس، افضل زیدی، رضا عباس رضوی، عدنان زیدی اور فیصل رضوی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق، تین ہزار گز زمین پر 56 لاکھ روپے کا چالان جو مفتی منیب الرحمان نے جمع کرایا تھا، بھی رضا عباس رضوی کے قبضے میں چلا گیا۔ علاوہ ازیں، جمال اختر نے گلا خان، ایکسٹرا لینڈ اور اورنگی کی پرائم زمینوں کے معاملات نمٹائے، جن میں جعلی لے آؤٹ پلان اور پرانے نقشوں (1976-78) کا استعمال کیا گیا۔

رضا عباس رضوی نے اپنی حساسیت اور تعلقات کی بدولت بڑی کرپشن کی اور ان کے خلاف حساس اداروں کے پاس مکمل معلومات موجود ہیں، جن میں فرقہ وارانہ فسادات اور قتل کے معاملات کے شواہد بھی شامل ہیں۔

مزید برآں، فیصل رضوی اور افضل زیدی کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں، جن میں آمدنی سے زائد اثاثے، اسلام آباد میں فارم ہاؤس اور دیگر پراپرٹیز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، یوسی ڈی کے دکانداروں نے بھی ریکارڈ تحقیقاتی اداروں کے حوالے کیا ہے، جس پر بڑی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق، الہ دین کیس سمیت کئی دیگر کیسز بھی ہائی پروفائل ہو چکے ہیں اور تحقیقات میں متعدد افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *