بہار میں مسلم خاتون کے نقاب پر حملے کے خلاف سول سوسائٹی کا بھرپور احتجاج

حیدرآباد(بولونیوز)سول سوسائٹی کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے بھارت کی ریاست بہار میں مسلم خاتون ڈاکٹر کے نقاب پر حملے اور ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں، خاص طور پر مسلم خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔

احتجاج میں مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں، طلبہ و یوتھ تنظیموں کے کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ہندوتوا دہشتگردی، مذہبی تعصب اور بھارتی حکومت کی اقلیت دشمن پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔

اس موقع پر ارسلان عیسانی نے کہا کہ “بہار میں مسلم خاتون ڈاکٹر کے نقاب پر حملہ محض ایک فرد پر نہیں بلکہ مسلم خواتین کی عزت، مذہبی آزادی اور انسانی اقدار پر منظم حملہ ہے۔ مودی سرکار کی سرپرستی میں بھارت ایک جنونی ریاست بنتا جا رہا ہے جہاں مسلمانوں کو دانستہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔”

طارق الرشید نے کہا کہ “ہندوتوا نظریہ آج کھلی دہشتگردی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کبھی گائے کے نام پر قتل، کبھی مساجد کی بے حرمتی اور اب سرکاری تقریب میں مسلم خاتون کے نقاب پر حملہ، یہ سب ریاستی سرپرستی میں ہونے والے جرائم ہیں۔”

نوید کاکا نے کہا کہ “ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم کا بین الاقوامی سطح پر محاسبہ کیا جائے اور مودی سرکار کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔”

عبداللہ یوتھ ونگ، طلباء، اساتذہ اور تاجران سمیت سول سوسائٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی مظاہرے میں بھرپور شرکت کی۔

شرکاء نے متفقہ طور پر عزم ظاہر کیا کہ وہ مظلوم بھارتی مسلمانوں، خاص طور پر مسلم خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر فورم پر ان کی آواز بن کر ہندوتوا ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔

اختتام پر مظاہرین نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف جاری ریاستی دہشتگردی کا فوری نوٹس لیں اور انصاف کے لیے عملی اقدامات کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *