سونے کے بیوپاریوں کو لوٹنے کا کیس،مفرور ملزم عمران عرف مانی لاہور سے گرفتار

ایبٹ آباد(بولونیوز)سونے کے بیوپاریوں سے کروڑوں روپے مالیت کا سونا لوٹنے کے مقدمے میں نامزد مفرور ملزم عمران عرف مانی کو بالآخر کینٹ پولیس نے گرفتار کر لیا۔ لاہور پولیس نے عمران مانی کو ایک علیحدہ مقدمے میں حراست میں لیا تھا، جس کی اطلاع ملنے پر کینٹ پولیس لاہور پہنچی اور ملزم کو تحویل میں لے کر ایبٹ آباد منتقل کر دیا۔

پولیس کے مطابق سال 2014 میں ایبٹ آباد میں سونے کے بیوپاریوں کے خلاف بڑی وارداتیں کی گئیں۔ کورنگی کراچی کے رہائشی بیوپاری بلال سے اڑھائی کلو سونا (مالیت 1 کروڑ 5 لاکھ روپے) اور 25 لاکھ روپے نقدی دو موٹرسائیکل سواروں نے گن پوائنٹ پر چھین لی تھی۔ کچھ ہی عرصے بعد ملتان کے بیوپاری جاوید سے بھی 200 گرام سونا اور 4 لاکھ روپے نقدی لوٹ لی گئی۔

ان وارداتوں کا مقدمہ تھانہ کینٹ میں مارچ 2015 میں علت نمبر 220 کے تحت زیرِ دفعہ 3/17 اور 412 پی پی سی کے تحت درج کیا گیا۔ پولیس نے خفیہ تحقیقات کے دوران مشتبہ پیٹرن دیکھتے ہوئے جیولرز کی دکان پر کام کرنے والے عمران عرف مانی پر نظر رکھی، جس نے اچانک 60 لاکھ روپے مالیت کی 5 گاڑیاں خریدیں۔ آمدن سے مطابقت نہ ہونے پر پولیس نے اسے گرفتار کیا، جہاں ملزم نے ڈکیتیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔

پولیس نے عمران مانی کی نشاندہی پر 310 گرام سونا برآمد کیا جبکہ راولپنڈی صدر اور راجہ بازار کے صرافوں سے 50 تولے سونا بھی ریکور کیا گیا۔ ملزمان سے دو عدد 30 بور پستول، گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بھی برآمد ہوئیں۔

چالان مکمل ہونے پر مقدمہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ جولائی 2015 میں سیشن جج ایبٹ آباد نے ملزمان کو ضمانت پر رہا کیا، جس کے بعد عمران عرف مانی مفرور ہو گیا۔ کیس کی سماعت مکمل ہونے پر ایڈیشنل سیشن جج نے شریک ملزمان تنویر گل اور عزیز الرحمن کو دفعہ 3/17 کے تحت 14 سال قید بامشقت اور دو دو لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ دفعہ 412 کے تحت 10 سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ سنایا۔ ناجائز اسلحہ رکھنے پر دفعہ 15 ڈبل اے کے تحت بھی سزا دی گئی۔

عدالت نے عمران عرف مانی کے مستقل وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے، جو کئی برس مفرور رہنے کے بعد لاہور سے گرفتار ہو کر دوبارہ تھانہ کینٹ ایبٹ آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش کی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *