سابق شامی حکومت کے بدنام فوجی افسر سہیل الحسن گرفتار، قتلِ عام کی ویڈیوز بھی برآمد
دمشق(بولونیوز) دمشق میں سابق شامی حکومت کے ایک بدنام فوجی افسر کی گرفتاری عمل میں آ گئی ہے، جو مخالفین اور عام شہریوں کو قتل کرنے کے بعد لاشوں پر پاؤں رکھ کر ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کے لیے بدنام تھا۔
ذرائع کے مطابق شام میں مبینہ طور پر چھ لاکھ مسلمانوں کے قتلِ عام میں ملوث سابقہ حکومت کے ظالم افسران کو ایک ایک کر کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔ حالیہ گرفتاری سہیل الحسن کی ہے، جو سابق صدر بشارت الاسد کی حکومت کے دوران ایک بااثر فوجی افسر رہا اور سینکڑوں قتلِ عام میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل الحسن اپنے جرائم کی ویڈیوز خود بنواتا تھا، جن میں مقتولین کی لاشوں پر پاؤں رکھ کر طاقت اور ظلم کا مظاہرہ کیا جاتا، اور بعد ازاں یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جاتی تھیں تاکہ خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔
گرفتاری کے بعد حکام نے سہیل الحسن کو اس کے جرائم کی ویڈیوز دکھائیں، جس پر اس نے ندامت اور شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراض بھی کیا اور اپنے جرائم پر توبہ کرتے ہوئے معافی کی اپیل کی۔ تاہم قتل کیے گئے افراد کے لواحقین نے کسی قسم کی رعایت مسترد کرتے ہوئے انصاف اور سخت ترین سزاؤں کا مطالبہ کیا ہے۔


