کراچی کے ولیکا اسپتال میں ایڈز پھیلنے کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر، ہولناک انکشافات

کراچی(بولونیوز)ولیکا اسپتال میں نومولود بچوں میں ایڈز (ایچ آئی وی) کے پھیلاؤ سے متعلق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں اسپتال عملے کی سنگین غفلت کے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارتِ صحت کی تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ولیکا اسپتال میں ایک ہی سرنج بار بار استعمال کی گئی، جس کے باعث نومولود بچوں میں ایچ آئی وی پھیلتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق 10 سی سی (10cc) کی ایک ہی سرنج مختلف بچوں کو لگائی جاتی رہی۔

متاثرہ بچوں کے والدین نے اسپتال انتظامیہ پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نرسنگ اسٹاف پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ نرسز سرنج استعمال کے بعد ضائع کرنے کے بجائے اسے بار بار استعمال کرتی رہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید نہیں کی، تاہم انفیکشن کنٹرول کے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے نومبر 2025 میں پہلی بار ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی اطلاع دی تھی۔ ابتدائی طور پر 91 کیسز سامنے آئے، جبکہ اب تک اسپتال سے 104 ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ متاثرین میں 95 معصوم بچے اور 9 بالغ افراد شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ اور ڈپٹی نیشنل منیجر انسدادِ ایڈز پروگرام پر مشتمل وفاقی حکومت کی خصوصی ٹیم نے ولیکا اسپتال اور اس کے اطراف کے علاقے پٹھان کالونی کا تفصیلی دورہ کیا۔ ٹیم نے یونین کمیٹی کے عہدیداروں، مقامی رہائشیوں اور متاثرہ بچوں کے والدین سے ملاقاتیں بھی کیں۔

تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پٹھان کالونی میں بڑی تعداد میں لوگ اتائیوں سے علاج کرواتے ہیں، جو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا ایک اضافی سبب بن سکتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے ولیکا اسپتال میں ایڈز کے پھیلاؤ کو خالصتاً مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو سخت اقدامات کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایک آزادانہ انکوائری کرائی جائے، ذمہ دار اسپتال انتظامیہ اور نرسنگ اسٹاف کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ پٹھان کالونی اور اطراف کے علاقوں میں اتائیوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ معصوم جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *