پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ کی متنازعہ بل پر پریس کانفرنس

لاہور(بولونیوز)پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ نے نئے متنازعہ بل کے خلاف لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی۔

پریس کانفرنس میں عثمان ملک، چودھری اختر، میاں ایوب، عائشہ نواز چودھری، روبینہ شاہین وٹو، ڈاکٹر خیام حفیظ، راؤ بابر جمیل، ملک عمران کھوکھر، فائزہ ملک، ذیشان شامی، راؤ خالد سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

سید حسن مرتضیٰ نے کاہنہ اسکول حادثے میں 14 معصوم بچوں کی حادثاتی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا حادثہ سندھ میں پیش آتا تو قوم کسی نتیجے پر پہنچ چکی ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس علاقے کی محرومیوں کی عکاسی کرتا ہے اور اگر بلدیاتی ادارے موجود ہوتے تو حادثے کے بعد مؤثر پوچھ گچھ ممکن ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کے اس مائنڈ سیٹ پر تشویش کا اظہار کرتی ہے اور مطالبہ کیا کہ پنجاب میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، کیونکہ بنیادی جمہوریت کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی ادارے فعال ہیں، مگر پنجاب میں بلدیاتی نظام اس خوف سے نہیں بنایا جا رہا کہ حکمرانوں کی تصویریں نہیں لگ سکیں گی۔

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ کبھی کابینہ کے ذریعے اور کبھی مختلف ایکٹس (2021 اور 2025) کے ذریعے قانون سازی کی جا رہی ہے، جبکہ یہ پہلی حلقہ بندی ہے جس میں پٹواری سرکل توڑ دیے گئے ہیں تاکہ اپنے لوگوں کو جتوایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے مگر چند من پسند لوگوں کو خوش کرنے کے لیے پورا نظام تباہ کیا جا رہا ہے۔

سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ سرکاری افسر پٹواری اور منشی بنے ہوئے ہیں، پہلے سزا دی جا رہی ہے اور بعد میں ٹرائل کی بات ہو رہی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 4 کے تحت آئین سے متصادم قوانین بنائے جا رہے ہیں اور مقدمات کی بنیاد پر ایسے قوانین کل کسی پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی ایسے قوانین کو مسترد کرتی ہے اور عوام کو اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تحفظات کے ساتھ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں جائیں گے، ہمارا مقصد صرف عوام کے حقوق کا تحفظ ہے، نہ کہ ذاتی مفادات۔

سید حسن مرتضیٰ نے معاشی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپورٹس ختم، انڈسٹری بند اور صرف چند خاندانوں کی تجوریاں بھری جا رہی ہیں۔ کاشتکار کو معیاری کھاد اور سپورٹ پرائس دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔

آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خدا کے لیے عوام کی آواز بند کرنے سے پہلے انہیں ریلیف دیا جائے، کیونکہ بچوں کی لاہور میں ہونے والی حادثاتی اموات نے حکومتی دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *