جنگ کے دوران مزید جدید ہتھیار تیار کر لیے گئے: ایران کا بڑا دعویٰ

تہران(بولونیوز)ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور جنگ کے دوران، جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ رہی، ایران نے نہ صرف اپنے دفاعی نظام کو برقرار رکھا بلکہ مزید جدید اور جدید ترین ہتھیار بھی تیار کیے ہیں۔

ایرانی فوجی ترجمان کے مطابق جنگ کے دوران ہی نئے ہتھیاروں کو سروس میں شامل کیا گیا، جبکہ میزائل ٹیکنالوجی میں بھی نمایاں بہتری لائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی دباؤ اور حملوں کے باوجود ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔

ایرانی حکام کے مطابق:
▪️ ایران نے اپنے میزائلوں کی کوالٹی اور آپریشنل صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا۔
▪️ تحقیق و ترقی (R&D) کا عمل جنگی حالات کے باوجود مسلسل جاری رکھا گیا۔
▪️ ملک کی دفاعی اور عسکری طاقت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔
▪️ تہران آئندہ بھی اپنی اسٹریٹجک اور دفاعی ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دینے پر توجہ مرکوز رکھے گا۔

تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خطے میں جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود حملوں اور جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ بیرونی دباؤ اور فوجی کارروائیوں کے باوجود اس کی عسکری صلاحیتیں متاثر نہیں ہوئیں بلکہ مزید مضبوط ہوئی ہیں۔ تاہم، ایران کے ان دعوؤں کی آزاد بین الاقوامی ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ مختلف فریق اس حوالے سے متضاد مؤقف رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *