سندھ پولیس کے برطرف اور سزا یافتہ ملازمین کے لیے اہم پیش رفت، ریویژن کا حق برقرار

کراچی(بولونیوز) سندھ پولیس کے برطرف اور سزا یافتہ ملازمین کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید اختر اوڈھو نے ایک وضاحتی مراسلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محکمانہ سزاؤں کے خلاف رول 12 کے تحت ریویژن (نظرثانی) کا حق برقرار ہے اور اسے سیکنڈ اپیل تصور نہیں کیا جا سکتا۔

سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی وضاحت

18 جون 2026 کو جاری کیے گئے مراسلے کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سندھ سول سرونٹس (ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن) رولز کے تحت رول 13(بی) میں سیکنڈ اپیل پر پابندی بدستور برقرار ہے، تاہم رول 12 کے تحت ریویژن کا اختیار ایک الگ قانونی فورم ہے، جسے سیکنڈ اپیل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ماضی کے احکامات غیر مؤثر قرار

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں جاری کیے گئے وہ تمام احکامات اور گائیڈ لائنز، جن کے تحت ریویژن کی درخواستوں کو سیکنڈ اپیل قرار دے کر مسترد کیا جاتا تھا، سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مؤثر نہیں رہے۔

ملازمین کو اضافی قانونی حق

وضاحت کے مطابق اگر کسی ملازم کی پہلی اپیل مسترد ہو چکی ہو تب بھی وہ متعلقہ قواعد کے تحت اپنے سے اعلیٰ مجاز افسر یا اتھارٹی کے سامنے ریویژن کی درخواست دائر کرنے کا حق رکھتا ہے۔

افسران کو ہدایات جاری

آئی جی سندھ نے تمام ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور دیگر متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں محکمانہ معاملات نمٹاتے ہوئے رول 12 کے تحت ریویژن کے حق کو یقینی بنایا جائے۔

قانونی ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ سندھ پولیس کے ان ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہو سکتا ہے جن کی محکمانہ اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں، کیونکہ اب انہیں نظرثانی کے لیے ایک اضافی قانونی راستہ میسر آ گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *