بی آر ٹی، لوکل ٹرین اور بلدیاتی اداروں کی مبینہ میگا کرپشن: تحقیقات میں اہم پیش رفت متوقع
کراچی(بولونیوز) شہر میں بی آر ٹی، لوکل ٹرین، کوآپریٹو سوسائٹیز اور بلدیاتی اداروں سے متعلق مبینہ میگا کرپشن کے معاملات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مختلف ذرائع اور سیاسی حلقوں کے مطابق بعض مقدمات میں سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو فوری گرفتار کرنے کے بجائے فرار اور بعد ازاں قانونی ریلیف حاصل کرنے کا موقع دیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس پر حکومتِ سندھ اور متعلقہ ادارے تنقید کی زد میں ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بی آر ٹی منصوبے میں ایڈوانس ادائیگیوں سمیت مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمات میں ذمہ داری چند افراد تک محدود کرنے کے تاثر نے سوالات کو جنم دیا ہے، جبکہ ناقدین بڑے کرداروں تک پہنچنے اور حقائق سامنے لانے پر زور دے رہے ہیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ اور کوآپریٹو سوسائٹیز سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات مختلف فورمز پر زیرِ بحث رہی ہیں۔
اسی تناظر میں سابق ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ امتیاز ابڑو کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب بلدیاتی اداروں میں مبینہ جعلی اور غیر قانونی شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ (SOE)، غیر قانونی بھرتیوں اور ترقیوں کے معاملات کی تحقیقات دوبارہ متحرک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق متعدد افسران اور میونسپل سطح کے عہدیداران احتسابی اداروں کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ٹی ایم سیز میں بعض تقرریاں بھی جانچ پڑتال میں آ سکتی ہیں۔
سیاسی و انتظامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات آگے بڑھیں تو مزید انکشافات، طلبیاں اور ممکنہ کارروائیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ تاہم کسی بھی فرد کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ تحقیقاتی اور عدالتی ادارے ہی کریں گے۔


