تیل کی عالمی مارکیٹ میں تعاون پر سعودی عرب کے شکر گزار ہیں، روسی صدر ولادیمیر پوتین
سینٹ پیٹرزبرگ(بولونیوز)روسی صدر ولادیمیر پوتین نے کہا ہے کہ روس عالمی تیل کی منڈی کے نظم و نسق میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپیک پلس کے دائرہ کار میں شراکت داری مارکیٹ کے توازن اور استحکام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پوتین کے مطابق تیل کی عالمی سپلائی میں کمی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ اوپیک پلس کا مقصد ایسی رکاوٹوں کو کم کرنا اور منڈی کو مستحکم رکھنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس بڑھتی ہوئی تیل قیمتوں کے ذریعے جیو پولیٹیکل تناؤ یا تنازعات سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں نہیں، بلکہ ایسی متوازن قیمتیں چاہتا ہے جو پیدا کرنے والوں اور صارفین دونوں کے مفادات کو پورا کریں۔
روسی صدر نے یہ بھی کہا کہ الاسکا میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار کے لیے امریکہ کی جانب سے روسی ٹیکنالوجی کا استعمال فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں روس کے وسیع تجربے کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی توانائی مارکیٹ کا استحکام ایک مشترکہ ترجیح ہے اور اس کے لیے بڑے پروڈیوسرز کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔
دوسری جانب اوپیک کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیثم الغیص نے سینٹ پیٹرزبرگ بین الاقوامی اقتصادی فورم کے دوران کہا کہ اوپیک کی پیش گوئیاں حقیقی ڈیٹا اور زمینی حقائق پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق جیو پولیٹیکل رکاوٹیں تیل کی عالمی مانگ سے متعلق اوپیک کے مثبت نقطہ نظر کو تبدیل نہیں کرتیں۔
ہیثم الغیص نے بتایا کہ اوپیک رواں سال تیل کی عالمی مانگ میں یومیہ تقریباً 12 لاکھ بیرل اضافے کی توقع رکھتی ہے، جبکہ سال 2027 تک یہ اضافہ یومیہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تک پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل المدتی ساختی عوامل، جیسے آبادی میں اضافہ اور شہری پھیلاؤ، توانائی کی مانگ کو سہارا دے رہے ہیں۔
اوپیک کے مطابق طویل مدتی تخمینوں میں سال 2050 تک توانائی کی مجموعی مانگ میں مسلسل اضافے کا امکان ہے اور تیل کی عالمی مانگ یومیہ تقریباً 123 ملین بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ آئندہ دہائیوں میں تیل کی مانگ کے عروج کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آتے، جبکہ تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا تسلسل عالمی توانائی کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔


