ٹرمپ کی جانب سے نتن یاہو پر سخت تنقید، خطے کی سفارتی صف بندی میں نئی بحث
واشنگٹن/تل ابیب(بولونیوز)سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو پر ایک بار پھر سخت تنقید سامنے آئی ہے، جسے مبصرین حالیہ دنوں کی سب سے شدید سیاسی سبکی قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ نتن یاہو کی پالیسیوں کے باعث دنیا میں اسرائیل کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں مواقع پر یہ تنقید ایسے وقت سامنے آئی جب پاکستان کی جانب سے خطے میں ثالثی کی کوششوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات تھیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان ایک غیر اعلانیہ فہم و تفہیم موجود رہی ہے، جس کا مقصد براہِ راست سفارتی تنازعات سے گریز اور ایک دوسرے کے مفادات کو بلاواسطہ نقصان نہ پہنچانا تھا، تاہم حالیہ بیانات اور اقدامات سے یہ توازن متاثر ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض اسرائیلی پلیٹ فارمز پر بلوچستان کے حوالے سے ایسے نقشے اور بیانات سامنے آئے جن میں ہمسایہ ممالک کے علاقوں کو بھی شامل دکھایا گیا، جس پر خطے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس تناظر میں بلوچستان کے حوالے سے ایک نئی، اگرچہ بظاہر محدود، مگر علامتی پیش رفت نے امریکا کی دلچسپی کو واضح کیا ہے، خصوصاً کریٹیکل منرلز کے شعبے میں۔
اطلاعات کے مطابق امریکا ان مسلح گروہوں کے خلاف تعاون بڑھانے پر غور کر رہا ہے جو معدنی منصوبوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا دونوں نے معدنی وسائل کو سیکیورٹی ڈومین میں شامل کر رکھا ہے، جس سے خطے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ادھر افغانستان میں ممکنہ خدشات اور نئی علاقائی صف بندی پر بھی بحث جاری ہے، جبکہ مبصرین یہ امکان بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس کی صورت میں ایران کی دفاعی صلاحیت اور میزائل پروگرام برقرار رہنے کے امکانات زیرِ غور ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض سخت گیر قوم پرستانہ بیانیوں نے بالآخر انہی طبقات کو نقصان پہنچایا جن کے حقوق کی بات کی جاتی رہی۔ تجزیہ کار عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال میں جذباتیت سے گریز، معاشی مواقع پر توجہ اور خود کو نئی مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


