تعلیمی اداروں میں اسرائیلی پرچم کی نمائش پر تنازع، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
لاہور(بولونیوز)لاہور سمیت ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں مبینہ طور پر اسرائیلی پرچم کی نمائش کے مختلف واقعات پر ایک بار پھر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف چکوال میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے تحت ہونے والی ایک سٹریٹجک کانفرنس میں مختلف ممالک کی نمائندگی کے لیے جھنڈے رکھے گئے، جن میں اسرائیلی پرچم بھی شامل تھا۔ اس واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید تنقید سامنے آئی۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے وضاحت میں کہا کہ پرچم کی نمائش کسی سیاسی یا سفارتی حمایت کے لیے نہیں بلکہ طلبہ کو عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات سمجھانے کے تعلیمی مقصد کے تحت کی گئی تھی، جبکہ پاکستان کی سرکاری پالیسی کے مطابق اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے مؤقف پر قائم ہیں۔
اس سے قبل بھی مختلف ادوار میں اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی اور خیبرپختونخوا کے ایبٹ آباد سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں اسی نوعیت کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
رپورٹ کے مطابق ہر بار تعلیمی اداروں کی جانب سے یہی مؤقف اپنایا گیا کہ ایسے اقدامات کا مقصد صرف تعلیمی مباحث اور عالمی سیاسی نظام کو سمجھانا ہوتا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں اسے حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی جاتی رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، جس کے باعث اس نوعیت کے واقعات ہمیشہ عوامی اور سیاسی سطح پر بحث اور تنازع کا باعث بنتے ہیں۔


