28ویں ترمیم: حکومت کی مدت میں توسیع سے متعلق دعوؤں پر بحث

اسلام آباد(بولونیوز) 28ویں ترمیم کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آ رہا ہے کہ اس کے تحت حکومت کی آئینی مدت پانچ سال سے بھی تجاوز کر سکتی ہے یا اسے غیر معینہ مدت تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد سیاسی اور آئینی حلقوں میں بحث نے شدت اختیار کر لی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کی تشریح پارلیمانی منظوری، آئینی حدود اور عدالتی نظائر کی روشنی میں کی جاتی ہے، اس لیے کسی بھی ترمیم کے عملی اطلاق سے قبل اس کے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق حکومت کی مدت سے متعلق شقیں آئین میں واضح ہیں اور کسی بھی ممکنہ توسیع کے لیے مخصوص آئینی طریقہ کار درکار ہوتا ہے۔

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں اس معاملے کو جمہوری تسلسل، آئین کی بالادستی اور عوامی رائے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات شفاف وضاحت اور پارلیمانی بحث کے متقاضی ہیں تاکہ کسی بھی ابہام کو دور کیا جا سکے۔

حکومتی یا سرکاری سطح پر تاحال اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ ادارے جلد اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *