سندھ میں واپڈا کے واٹر سیکٹر منصوبوں میں تاخیر، رکاوٹوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

کراچی(بولونیوز)واپڈا کے واٹر سیکٹر منصوبوں میں سندھ کے اندر جاری تاخیر کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔ اس حوالے سے سندھ حکومت کی درخواست پر واپڈا نے جوابی خط جاری کر دیا ہے جس میں مختلف منصوبوں میں درپیش انتظامی، قانونی اور تکنیکی رکاوٹوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

واپڈا اور محکمہ آبپاشی سندھ کے درمیان ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں منصوبوں کی جلد تکمیل اور حل طلب معاملات پر غور کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اربن ڈرینج سسٹم (RBD-I اور RBD-III) کے مکمل کاموں کی حوالگی اور سیلابی نقصانات کی بحالی کا معاملہ تاحال زیر التوا ہے۔ اسی طرح نئی گاج ڈیم کے لیے 7,138 ایکڑ سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کے لیے صوبائی کابینہ کی منظوری بھی ابھی تک زیرِ غور ہے۔

واپڈا نے نئے گاج ڈیم منصوبے کے علاقے میں سیکیورٹی کے لیے ایف سی اہلکاروں کی تعیناتی کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ تعمیراتی کاموں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ جیکب آباد، شکارپور اور کشمور ڈرینیج منصوبے (67.9 ارب روپے) کے لیے سندھ حکومت کی باقاعدہ رضامندی درکار ہے، جبکہ تھر کینال منصوبہ (212.7 ارب روپے) کے لیے ارسا سے این او سی کے اجرا کی درخواست کی گئی ہے۔

اسی طرح رائنی کینال فیز ٹو منصوبہ (53.3 ارب روپے) کے لیے پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ تاحال زیر التوا ہے، جبکہ گھوٹکی ڈرینج منصوبے کے لیے بھی سندھ حکومت سے منظوری طلب کی گئی ہے۔

واپڈا کے مطابق سندھ بیراج پروجیکٹ پر فزیبلٹی رپورٹ کے ڈرافٹ پر محکمہ آبپاشی سندھ کے تبصروں کا انتظار ہے۔ اس کے علاوہ دراوٹ ڈیم پروجیکٹ کے تحت 163.4 ملین روپے کے بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں ادارے منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے کے لیے آئندہ بھی مشاورت جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *