ایران امریکا جنگ کی آڑ میں پیٹرولیم مصنوعات پر کھلی لوٹ مار

اسلام آباد(بولونیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید عوامی ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت نے ایران امریکا جنگ کی آڑ میں عوام پر مہنگائی کا نیا بم گرا دیا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کو کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔

دستاویزی تفصیلات کےمطابق پیٹرول پر فی لیٹر 198 روپے ایک پیسے صرف ٹیکسز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ ٹیکسز کے بغیر پیٹرول کی قیمت 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 29 روپے فی لیٹر پریمیم بھی شامل ہے۔ پیٹرول پر 117 روپے 41 پیسے پیٹرولیم لیوی، 22 روپے 74 پیسے کسٹم ڈیوٹی عائد ہے، جبکہ تیل کمپنیوں کا منافع 8 روپے 64 پیسے اور ڈسٹری بیوشن مارجن 7 روپے 87 پیسے مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح پیٹرول پر 7 روپے 25 پیسے فریٹ مارجن، ڈھائی روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی اور 2 روپے 69 پیسے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ بھی شامل کی گئی ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی صورتحال بھی مختلف نہیں۔ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 113 روپے 71 پیسے ٹیکسز شامل ہیں، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 301 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ ڈیزل پر 42 روپے 60 پیسے پیٹرولیم لیوی اور 32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

مزید تفصیلات کے مطابق ڈیزل پر ڈھائی روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی، 8 روپے 91 پیسے سمندری نقصان کی ڈیوٹی، 2 روپے 95 پیسے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ اور 7 روپے 76 پیسے فریٹ مارجن شامل ہے۔ ڈسٹری بیوشن مارجن 7 روپے 87 پیسے جبکہ تیل کمپنیوں کا منافع 8 روپے 64 پیسے رکھا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 20 ڈالر فی بیرل پریمیم الگ سے شامل کیا گیا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بے تحاشا ٹیکسوں اور لیویوں نے عام آدمی، مزدور، ٹرانسپورٹر اور مڈل کلاس کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسز کم کرے، ورنہ مہنگائی کا یہ طوفان عوامی غصے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *