معاملات طےہونےلگتے ہیں تو امریکا فوجی مہم شروع کرکےسب کچھ تباہ کردیتا ہے،عباس عراقچی
تہران(بولونیوز)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی سفارتی طریقے سے معاملات حل کی طرف بڑھتے ہیں تو عین اسی وقت امریکا خطرناک فوجی مہم جوئی شروع کر دیتا ہے، جس سے حالات مزید بگڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے امریکا کے اس طرزِعمل کو بھونڈی حکمتِ عملی قرار دیا۔
ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے امریکا کی نئی تجویز پر جواب آج موصول ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے تاحال جاری کشیدگی کےخاتمےکی امید کی جا رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آج کسی بھی وقت ایران کا جواب موصول ہو سکتا ہے، اور اگر اس میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل شامل ہوا تو اس پر سنجیدگی سے پیش رفت شروع کی جائے گی۔
ادھر عباس عراقچی کی تازہ سوشل میڈیا پوسٹ نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ جب بھی سفارت کاری کامیابی کے قریب پہنچتی ہے، امریکا خطرناک فوجی کارروائیوں کا آغاز کر دیتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ کسی تخریب کار، یعنی اسرائیل، کی کارستانی تو نہیں جو ایک بار پھر امریکی صدر کو ایک نئی دلدل میں دھکیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وجہ کچھ بھی ہو، نتیجہ ہمیشہ ایک ہی نکلتا ہے اور وہ یہ کہ ایرانی قوم دباؤ کے آگے کبھی نہیں جھکتی۔
عباس عراقچی نے سی آئی اے کی جانب سے ایران کے میزائل ذخائر سے متعلق جاری رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے میزائل ذخائر اور لانچرز کی صلاحیت 31 مارچ کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں بلکہ 120 فیصد ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ شب امریکی افواج نے ایران میں فوجی اڈوں پر بمباری کی، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری رہا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔


