نالہ اراضی پر مبینہ غیر قانونی تعمیرات، ریکارڈ میں ٹیمپرنگ اور جعلی دستخطوں کے سنگین الزامات
کراچی(بولونیوز)اورنگی ٹاؤن میں نالہ اراضی اور سرکاری زمینوں سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کا بڑا معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں 2016 کے سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی، بیک ڈیٹ اندراجات اور دستاویزات میں رد و بدل کے شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض چالان، ٹرانسفر لیٹرز اور فائلوں میں مبینہ طور پر جعلی دستخطوں کے ذریعے ریکارڈ کو آگے بڑھایا گیا، جس کے بعد نالہ اراضی کے اطراف مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور پلاٹنگ کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔
مبینہ جعلی دستخطوں کا انکشاف
ذرائع کا کہنا ہے کہ انیق احمد پر مبینہ طور پر جعلی دستخطوں کے ذریعے دستاویزات تیار کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر رضوان خان، آفاق مرزا اور مرحوم جاہد مصطفیٰ کے ناموں سے منسوب دستخطوں کے مبینہ غلط استعمال کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
یہ تمام نکات اس وقت ابتدائی الزامات اور زیرِ تحقیق معاملات قرار دیے جا رہے ہیں۔
افسران کی ابتدائی تصدیق اور کارروائی کا عندیہ
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ افسران نے نالہ اراضی پر تعمیرات اور ریکارڈ کی جانچ کے دوران بعض دستاویزات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض افسران نے ابتدائی طور پر دستخطوں کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے مزید کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
بیک ڈیٹ ریکارڈ اور ٹیمپرنگ کے الزامات
ذرائع کے مطابق 2016 کے چالان میں مبینہ تبدیلی، فائلوں کو دوبارہ موجودہ صورتحال کے مطابق تیار کرنے اور بیک ڈیٹ اندراجات کے شواہد پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نالہ اراضی پر مبینہ غیر قانونی سرگرمیاں
الزامات کے مطابق علاقے میں مبینہ غیر قانونی پلاٹنگ، تعمیرات اور زمینوں کی فروخت کے معاملات سامنے آئے ہیں، جس سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
فرانزک انکوائری کا مطالبہ
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی فرانزک آڈٹ، مکمل ریکارڈ کی جانچ اور آزادانہ انکوائری فوری طور پر کی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داران کا تعین ہو سکے۔


