ہراسانی سے دلبرداشتہ میڈیکل طالبہ کی خودکشی، انصاف پر سوالات اٹھ گئے

میرپورخاص(بولونیوز)میرپورخاص میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں ایک نجی میڈیکل کالج کی تھرڈ ایئر کی طالبہ ڈاکٹر فہمیدہ لغاری نے مبینہ طور پر مسلسل ہراسانی سے تنگ آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق ڈاکٹر فہمیدہ لغاری ایک عرصے سے ایک فارماسسٹ اور تین دیگر طلبہ کی جانب سے ہراسانی کا شکار تھیں۔ وہ بارہا روتے ہوئے اپنی بہنوں اور والدہ کو اپنی روداد سناتی رہیں، تاہم مبینہ ملزمان کے بااثر ہونے کے باعث ان کے خلاف بروقت کارروائی نہ ہو سکی۔

خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ فہمیدہ انصاف کے لیے مختلف دروازے کھٹکھٹاتی رہیں، مگر جب انہیں کہیں سے داد رسی نہ ملی تو وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں اور بالآخر یہ انتہائی قدم اٹھا لیا۔ مرحومہ ایک باصلاحیت طالبہ تھیں اور اپنے ہزاروں خوابوں کے ساتھ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔

پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی، جس پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے؟ کیا بااثر افراد قانون سے بالاتر ہیں؟ اور کیا غریب اور بے بس افراد کے لیے انصاف کا حصول ناممکن بنتا جا رہا ہے؟

یہ واقعہ محض ایک فرد کا المیہ نہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک کڑا سوال ہے، جہاں ہراسانی کا شکار افراد کو بروقت تحفظ اور انصاف نہ ملنے کی صورت میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو فوری گرفتار کر کے شفاف تحقیقات کی جائیں، تاکہ آئندہ کسی اور بیٹی کو اس طرح کی اذیت سے گزرنا نہ پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *