ٹرمپ کی ایران کو دھمکی: معاہدہ یا کارروائی، پل اور بجلی گھر نشانے پر
واشنگٹن(بولونیوز)امریکی سیاست میں ایک بار پھر سخت لہجہ سامنے آ گیا ہے، جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کھلی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ہم یا تو معاہدہ کریں گے یا پھر کام ختم کر دیں گے، اور کام ختم کرنا مشکل نہیں ہوگا۔”
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ معاہدہ کرنے کو ترجیح دیں گے کیونکہ وہ ایران کے 9 کروڑ 10 لاکھ عوام کو متاثر نہیں کرنا چاہتے، تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امریکہ کے لیے ایران کے پلوں، بجلی گھروں اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔
ٹرمپ کے مطابق:
“ہم ایک گھنٹے میں ان کے پل گرا سکتے ہیں، ان کی توانائی اور بجلی کی سپلائی بند کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اس وقت کوئی پیسہ نہیں ہے، ہم نے انہیں کوئی رقم نہیں دی، لیکن اگر چاہیں تو ان کا بجلی پیدا کرنے والا پورا نظام ناکارہ بنا سکتے ہیں۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی برادری اس جارحانہ بیانیے پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے اس بیان پر فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایسے بیانات خطے میں تناؤ کو بڑھا چکے ہیں۔


