افغان طالبان کا بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ
کابل/اسلام آباد(بولونیوز)افغانستان میں طالبان کی وزارتِ دفاع کے نائب ترجمان صدیق اللہ نصرت نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فضائیہ نے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع پشین کے سرانان علاقے اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر داعش کے مبینہ ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔
صدیق اللہ نصرت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ بلوچستان کے علاقے سرانان میں داعش کے ایک مشترکہ مرکز پر فضائی کارروائی کی گئی، جسے ان کے بقول افغانستان میں تخریبی سرگرمیوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
طالبان کی وزارتِ دفاع کے مطابق خیبر پختونخوا کے قمبرخیل علاقے میں داعش کے ایک مبینہ مرکز جبکہ چترال کی شاہ سلیم وادی کے گرم چشمہ علاقے میں داعش اور دیگر مسلح عناصر کے ایک اور مشترکہ مبینہ ٹھکانے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ طالبان کا الزام ہے کہ ان مراکز سے افغانستان میں شہریوں اور سکیورٹی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں داعش کے جنگجوؤں، ان کے سہولت کاروں اور دیگر مسلح عناصر کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا، جبکہ حملے انتہائی درستگی سے کیے گئے اور کسی شہری کے جانی نقصان کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
تاہم بی بی سی کے مطابق ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، جبکہ پاکستان کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
ادھر کوئٹہ سے نمائندے محمد کاظم کے مطابق ضلع پشین میں ڈرون گرنے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ کوئٹہ میں ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرانان کے علاقے میں افغانستان کی جانب سے آنے والے ڈرونز دیکھے گئے، جن میں سے ایک یا دو کو فائرنگ کر کے گرا دیا گیا، جس کے باعث شہری زخمی ہوئے۔
اسی دوران بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں رات گئے جنگی طیاروں کی پروازوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
پشاور سے نمائندے عزیز اللہ خان کے مطابق پشاور کے مضافاتی علاقے حسن خیل میں مبینہ طور پر ایک کاپٹر ڈرون گرنے یا تباہ کیے جانے کے نتیجے میں دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ حسن خیل تھانے کی حدود میں ڈرون کا ملبہ ملا ہے، جس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید نے واقعے کی تصدیق کی تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔


