بلوچستان کو بحران سے نکالنے کے لیے اجتماعی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ

کوئٹہ(بولونیوز)کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت شدید بحران اور مشکلات سے گزر رہا ہے اور موجودہ حالات اجتماعی سوچ اور قومی یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی قبائلی عمائدین، سیاسی جماعتیں، وکلاء، ٹرانسپورٹرز، تاجربرداری، اساتذہ اور ٹریڈ یونینز مل کر قومی حقوق کے حصول اور صوبے کو بحران سے نکالنے کے لیے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں ایک وسیع رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت مختلف طبقات اور تنظیموں سے ملاقاتیں کی جائیں گی۔

نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کی برادر اقوام بلوچ، پشتون، ہزارہ اور دیگر برادریوں نے مشکل حالات میں تحمل اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا ہے، جسے سراہا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سرزمین کے عوام کو آئندہ تنازعات اور ٹکراؤ سے بچنے کے لیے اجتماعی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر دلخراش واقعات پیش آ رہے ہیں، جبکہ معاشی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق تجارت تقریباً ختم ہو چکی ہے، سرحدی تجارت بند ہے، کوئلہ کانیں غیر فعال ہیں، زراعت اور گلہ بانی زوال پذیر ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر سرگرم ہیں جنہیں مبینہ سرپرستی حاصل ہے، جبکہ نوجوان معاشی مجبوریوں کے باعث مختلف غیر رسمی کاروبار پر مجبور ہیں۔

نوابزادہ لشکری رئیسانی کے مطابق اگر ریاست اور ادارے سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کو شکایات ہیں تو پھر فیصلے عوامی اعتماد کے ساتھ کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے شروع کی جانے والی رابطہ مہم کا مقصد مختلف طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر اجتماعی قومی مفاد کے لیے حل تلاش کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *