کراچی میں پانی کا شدید بحران، 80 فیصد شہری متاثر، سندھ حکومت پر سنگین الزامات

کراچی(بولونیوز)پانی کے شدید بحران پر شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، جس پر قانوندان اور انصاف لائرز فورم کراچی کے سینیئر رہنما ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں تقریباً 80 فیصد شہری پانی کی بنیادی سہولت سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ حکومت کی ناکامی کے باعث عوام مہنگے داموں واٹر ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔

ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان کے مطابق گزشتہ 18 سالوں میں سندھ حکومت کراچی کے لیے اضافی پانی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، اور شدید گرمی کے دوران شہریوں کو پانی سے محروم رکھنا ایک سنگین ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیو حب کینال منصوبہ، جس پر تقریباً 12 ارب روپے خرچ کیے گئے، کراچی کو مطلوبہ پانی فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ بدانتظامی اور مبینہ کرپشن کی علامت بن چکا ہے اور 100 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی کا دعویٰ بھی پورا نہیں ہو سکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ K-IV Water Project گزشتہ 24 سال سے تاخیر کا شکار ہے، جس کی لاگت 25 ارب روپے سے بڑھ کر 250 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، تاہم اس کے باوجود کراچی کو ایک قطرہ اضافی پانی فراہم نہیں کیا جا سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کے ریونیو کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود شہری بنیادی سہولت پانی سے محروم ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری اور ہنگامی بنیادوں پر پانی کے بحران کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *