یکم جولائی سے 3000 سے زائد روزمرہ استعمال کی اشیاء کی پیکنگ تبدیل

اسلام آباد(بولونیوز)یکم جولائی سے ڈبے بند دودھ، دہی، فروزن پراٹھے، کباب، ٹوتھ پیسٹ، کیچپ سمیت فریج، اے سی اور واشنگ مشین کی پیکنگ پر قیمت اور 18% سیلز ٹیکس چھاپنا لازمی قرار دیے جانے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور سیلز ٹیکس چوری روکنے کے لئے سخت اقدامات کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق روزمرہ استعمال کی 20 اہم کیٹیگریز کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے حکومت کو 60 ارب روپے کا اضافی سیلز ٹیکس حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ان اشیاء پر اس وقت سیلز ٹیکس کا اسٹینڈرڈ ریٹ لاگو تو ہے، لیکن تھرڈ شیڈول میں نہ ہونے کے باعث مینوفیکچررز اور دکاندار ٹیکس چوری کر لیتے ہیں۔

یکم جولائی سے تھرڈ شیڈول میں آنے کے بعد ان تمام اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس مینوفیکچرنگ کے مرحلے پر ہی فکس ہو جائے گا اور کمپنیوں کے لیے پروڈکٹ کے ڈبے یا پیکنگ پر قیمت اور سیلز ٹیکس کی رقم پرنٹ کرنا لازمی ہو گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے20 کیٹیگریز کی 3000 سے زائد اشیاء کی پیکنگ بدل جائے گی، جن میں ڈبے میں بند دودھ، دہی، پنیر، ملک کریم، ٹی کریم، پیکنگ میں بند ملک پاؤڈر، فیٹ ملک، بچوں کا دودھ، دلیہ جات، بچوں کی نرم غذائیں اور فوڈ سپلیمنٹس شامل ہیں۔

اس کے علاوہ فروزن پراٹھے، فروزن کباب، فروزن نگٹس اور تمام فروزن آئٹمز سمیت کیچپ، مائیونیز، بار بی کیو اور پیزا سوسز، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، شیونگ کریم، شیونگ فوم اور شیونگ برش، پالتو جانوروں (کتے، بلیوں وغیرہ) کی خوراک کی پیکنگ بھی شامل ہیں۔

بجٹ مہم کے تحت روزمرہ اشیاء کے ساتھ ساتھ تمام ہوم اپلائنسز کو بھی تھرڈ شیڈول کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ الیکٹرانکس مارکیٹ میں ٹیکس چوری روکی جا سکے:

جن میں ایل ای ڈی ، فریج، واشنگ مشین، جوسر، بلینڈرز، ایئر کنڈیشنرز (AC)، روم کولرز اور پنکھے، چولہے، گیزر، کوکنگ رینج سمیت تمام گیس اپلائنسز کو شامل کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *