بلدیہ عظمیٰ کراچی کو 13 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مل گئے، ٹاؤن حکومتیں محروم

کراچی(بولونیوز)سندھ حکومت نےبلدیہ عظمیٰ کراچی کےلیے خزانوں کے منہ کھول دیے، شہر کے 24 ٹاؤنز کی جانب سے درخواست پر منظور ہونے والا 13 ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ اور اسکیمیں کے ایم سی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں، جبکہ ٹاؤن حکومتیں ایک بار پھر ترقیاتی فنڈز سے محروم رہ گئیں۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں ترقیاتی اسکیموں کے حصول کے لیے ٹاؤنز اور کے ایم سی کے درمیان جاری رسہ کشی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی بازی لے گئی۔ شہر کی اندرونی سڑکوں کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 25 میں سے 24 ٹاؤنز نے سندھ حکومت کو درخواستیں اور ٹاؤن کونسل کی منظور شدہ قراردادیں ارسال کی تھیں، جس کے بعد سندھ حکومت نے کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے سروے کروا کر تقریباً 13 ارب روپے کی لاگت سے اسکیموں کی منظوری دی تھی۔

ابتدائی طورپرتجاویززیرغور تھیں کہ ان اسکیموں کی پروکیورمنٹ اور نگرانی لوکل گورنمنٹ کے ذریعے جبکہ ایگزیکیوشن ٹاؤن حکومتوں کے سپرد کی جائے، تاہم مبینہ طور پر کے ایم سی حکام کی مداخلت کے بعد یہ تمام فنڈز اور اسکیمیں ٹاؤنز کے بجائے کے ایم سی کو دے دی گئیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ٹاؤن حکومتوں کو نہ صرف فنڈز بلکہ ایگزیکیوشن کے اختیار سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔

اس اقدام پرکےایم سی کے اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے سندھ حکومت کی جانبداری اور ٹاؤن حکومتوں کو ناکام بنانے کا منصوبہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فنڈز ٹاؤنز کی درخواست پر منظور کیے گئے تھے اور انہیں ٹاؤن حکومتوں کو ملنے چاہئیں تھے تاکہ وہ اپنی حدود میں سڑکوں اور نکاسیٔ آب کی خراب صورتحال بہتر بنا سکتے۔

سیف الدین ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے ٹاؤن چیئرمینز کو ترقیاتی فنڈز دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق میئر کراچی کے پاس پہلے ہی اربوں روپے کے فنڈز موجود ہیں جن کے مؤثر استعمال میں ناکامی کے باوجود اب ٹاؤنز کی اسکیموں پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے واضح کیا کہ سندھ حکومت نے ٹاؤن حکومتوں کو اختیارات اور وسائل سے محروم کر کے تمام ترقیاتی کاموں کا اختیار کے ایم سی کے حوالے کر دیا ہے، جس کے خلاف منتخب نمائندے سخت احتجاج کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *