پاکستان نےپھردنیا کوحیران کردیا، ایران کا“فائنل فریم ورک”اسلام آباد تک کیسے پہنچا؟
اسلام آباد(بولونیوز)پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکز میں آ گیا ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے سہ ملکی دورے اور پس پردہ رابطوں کے نتیجے میں ایران کا ایک “workable framework to permanently end the war” پاکستان کے ہاتھ آ گیا ہے۔
عراقچی کا اسلام آباد دورہ اور سفارتی برف پگھلنے کا عمل
ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے اس امر کی وضاحت کی کہ ایران پاکستانی تجویز کے باوجود براہِ راست مذاکرات میں کیوں شامل نہ ہو سکا۔ اس وضاحت کا مقصد پاکستان کی جانب سے غیر اعلانیہ اور پس پردہ سفارتی سردمہری کو ختم کرنا تھا، جسے پاکستان نے انتہائی مہارت سے ڈیل کیا۔
ایران کا فائنل فریم ورک کیا ہے؟
ایران نے پاکستان کو جو فریم ورک دیا، اس میں ایران کی سرخ لکیریں (ریڈ لائنز) واضح کی گئی ہیں، جن میں:
آبنائے ہرمز کی مکمل سلامتی
بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی استحکام
ممکنہ معاوضے کے نکات
شامل ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ پہلے ہرمز اور بحری ناکہ بندی کے مسائل حل کیے جائیں، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے۔
پاکستان کی تجاویز اور علاقائی ہم آہنگی
پاکستان اور ایران کے درمیان اس فریم ورک پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ پاکستان نے تجویز دی کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب کو ساتھ ملا کر مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے۔ مزید یہ کہ قطر کے ساتھ ایران کے تعلقات مزید مستحکم کرنے کی تجویز بھی دی گئی تاکہ وسیع تر علاقائی ہم آہنگی پیدا ہو۔
ان تجاویز پر غور کے لیے ایرانی وفد کا ایک حصہ تہران واپس گیا، جہاں پارلیمان اور پاسدارانِ انقلاب سے منظوری کے بعد ضروری ترامیم کی گئیں۔
عمان میں شٹل ڈپلومیسی
ادھر عباس عراقچی اپ ڈیٹس لے کر عمان روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے سلطان ہیثم بن طارق سے تفصیلی مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی بیک ڈور رابطوں کے ذریعے عمان کو ممکنہ حل اور حالات کے تقاضوں پر آمادہ کر چکا تھا۔ عمان نے بھی پاکستان کی تجاویز کو شامل کرنے اور سعودی عرب کو ہرمز کے معاملے میں شریک کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان نے عراقچی کو اپنا طیارہ اور سکیورٹی فراہم کر کے اعتماد سازی اور سفارتی پختگی کی مثال قائم کی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر — کلیدی ثالث
حتمی منظوری کے بعد ایران کا فائنل فریم ورک دوبارہ اسلام آباد لایا گیا، جہاں عباس عراقچی نے یہ دستاویزات فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حوالے کیں۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کو key mediator قرار دیا جا رہا ہے، جو اس پورے مشاورتی عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران نے اس فریم ورک کی بنیاد پر مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری انہی کے سپرد کر دی ہے۔
امریکی وفد کی منسوخی اور پاکستان کا کردار
صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا پاکستان دورہ اچانک منسوخ کر دیا۔ ٹرمپ نے اس کی وجہ سفری اخراجات اور ایرانی قیادت میں مبینہ کنفیوژن بتائی، جبکہ ایران نے اسے امریکہ کی سنجیدگی کا امتحان قرار دیا۔
اس کے باوجود پاکستان نے غیر جانبدار ثالثی جاری رکھی اور شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے بیک چینل کو زندہ رکھا، جو پاکستان کی سفارتی بلوغت اور خطے میں بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
نتیجہ
مبصرین کے مطابق یہ تمام پیش رفت پاکستان کی مسلسل اور منظم بیک ڈور سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ حالیہ برسوں میں بحال ہونے والی عالمی ساکھ کو نہ صرف برقرار رکھا جائے بلکہ ایک پائیدار امن معاہدے کے ذریعے اسے دیرپا بنیادوں پر استوار کیا جائے، تاکہ پاکستان عالمی سفارتی منظرنامے کا مستقل محور بن سکے۔


