مغرب کی توجہ جوہری پروگرام پرمرکوز رہی، ایران نے خاموشی سے میزائل اور ڈرون صلاحیتیں بڑھا لیں
تہران/واشنگٹن(بولونیوز) بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے گزشتہ تقریباً 30 برسوں کے دوران ایک ایسی حکمتِ عملی اپنائے رکھی جسے بعض مبصرین “رسّی پر چلنے والے کو دیکھو” کی حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔ اس دوران مغربی دنیا کی توجہ زیادہ تر ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز رہی، جبکہ ایران نے پسِ پردہ اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو نمایاں طور پر وسعت دی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے خاموشی کے ساتھ اپنے میزائل اور بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) کو اس سطح تک پہنچایا جو بعض پہلوؤں میں روس کی صلاحیتوں کے قریب سمجھی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اب دسیوں ہزار میزائل موجود ہیں، جن میں جدید خرمشہر-4 میزائل بھی شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق اس وسیع میزائل ذخیرے کی موجودگی خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ بعض دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی صلاحیتیں امریکی طیارہ بردار جہازوں کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ اسرائیل کے لیے بھی یہ صورتحال ایک نئے سیکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں اسٹریٹجک حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے اور آنے والے وقت میں علاقائی و عالمی سطح پر اس کے اثرات واضح ہونے کا امکان ہے۔


