بلوچستان میں انتظامی نقشه بدلنے کی تیاری: پانچ نئے اضلاع اور تین نئے ڈویژنز کا امکان

کوئٹہ(بولونیوز) بلوچستان کی انتظامی ساخت میں بڑی تبدیلی کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں آج ایک اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں صوبے میں پانچ سے زائد نئے اضلاع اور تین یا چار نئے ڈویژنز کے قیام پر غور کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ضلع پشین کو دو حصوں میں تقسیم کر کے نیا ضلع برشور قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، تاکہ انتظامی سہولت اور عوامی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنایا جا سکے۔ ضلع کوئٹہ کو ڈویژن کا درجہ دینے اور اسے دو اضلاع (کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ) میں تقسیم کرنے کا بھی قوی امکان ہے، جس سے صوبائی دارالحکومت میں بڑھتی آبادی اور انتظامی دباؤ کم ہوگا۔

مزید برآں، پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن کو کوئٹہ ڈویژن سے الگ کر کے ایک نیا ڈویژن قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جس کا ہیڈکوارٹر ممکنہ طور پر قلعہ عبداللہ میں ہوگا۔ ایک اور ممکنہ ڈویژن میں بیکڑ، بارکھان، کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے علاقے شامل کرنے کی تجویز ہے، جسے کوہ سلمان ڈویژن کہا جا سکتا ہے اور بیکڑ کو ضلع قادر آباد کے طور پر الگ کرنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق قلات ڈویژن کو تقسیم کر کے ایک نیا بیلا ڈویژن قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کی ممکنہ حدود خضدار سے حب تک ہوں گی اور ہیڈکوارٹر خضدار یا بیلا میں قائم کیا جائے گا۔ مکران ریجن میں کیچ اور گوادر اضلاع کو تقسیم کر کے دو نئے اضلاع، بشمول ضلع تُربت، قائم کرنے کا امکان ہے۔

اسی طرح جھل مگسی، ڈھاڈر اور بولان کو نصیرآباد ڈویژن سے الگ کر کے سبی ڈویژن میں شامل کرنے جبکہ موسیٰ خیل کو ژوب ڈویژن میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو یہ بلوچستان کی انتظامی تاریخ میں ایک بڑی اور دوررس تبدیلی ہوگی، جس سے عوام کو نچلی سطح پر بہتر سہولیات، تیز تر انصاف اور مؤثر حکمرانی فراہم کی جا سکے گی۔ اجلاس کے فیصلوں پر پورے صوبے کی نظریں مرکوز ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *