آزاد ایران اسرائیل کو تسلیم کرے گا اور جوہری پروگرام ختم کرے گا

تہران(بولونیوز)ایران کے سابق ولی عہد اور جلاوطن رہنما شہزادہ رضا پہلوی نے ایک ویڈیو بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے بعد ایک آزاد، سیکولر اور جمہوری ایران کے قیام کے ساتھ ملک کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی آئے گی۔

جوہری فوجی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرے گا اور دہشت گرد گروہوں کی ہر قسم کی حمایت بند کرے گا۔موجودہ ابراہم معاہدوں کو وسعت دے کر انہیں ‘سائرس معاہدوں’ میں تبدیل کرے گا، جس کے تحت ایران، اسرائیل اور عرب دنیا مل کر علاقائی امن، تعاون اور استحکام کے لیے کام کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد ایران امریکہ کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا اور امریکی عوام کے ساتھ دوستانہ روابط بحال کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک سرگرم دہشت گرد گروہوں کی مالی، عسکری اور لاجسٹک حمایت فوری طور پر بند کی جائے گی اور ایران علاقائی و عالمی سطح پر دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف فعال کردار ادا کرے گا۔

سائرس معاہدے کا نیا تصور، قدیم فارسی بادشاہ کوروش اعظم کی مثال پر مبنی ہے، جس میں مذہبی رواداری اور باہمی احترام کو مرکزی حیثیت دی جائے گی۔

تاہم، اسلامی انقلاب کے حامیوں اور پرو رجیم تجزیہ کاروں نے اس بیان کو ایران کی قومی اور جوہری خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے اور رضا پہلوی کو اسرائیل اور موساد کا آلہ کار قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی اور مغربی میڈیا میں اس وژن کو تاریخی اور امید افزا قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایران میں پرو رجیم حلقے اسے غداری کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *