انڈین آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کی پریس کانفرنس: ’آپریشن سندور‘ اور پاکستان کے خلاف دعوے

بھارت(بولونیوز)پونے دو گھنٹے کی پریس کانفرنس میں انڈین آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے پاکستان اور مئی 2025 کی لڑائی کے حوالے سے متعدد بیانات دیے۔

جنرل دویدی نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ سال مئی میں پاکستان کے خلاف شروع کیا گیا ’آپریشن سندور‘ بدستور جاری ہے اور آئندہ کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران انڈیا نے پاکستان میں دہشتگردی کے اہداف پر 22 منٹ تک حملے کیے، جس سے پاکستان میں افراتفری پھیل گئی تھی۔

انڈین آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے بعد پاکستان کی کارروائیوں کا فیصلہ لینے کا سائیکل متاثر ہوا اور حالات کو سمجھنے میں وقت لگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انڈیا لڑائی کو آگے نہیں بڑھانا چاہتا تھا کیونکہ سیاسی اور فوجی مقاصد حاصل کر لیے گئے تھے۔

جنرل دویدی نے مزید دعویٰ کیا کہ گذشتہ برس 31 مسلح افراد کو ہلاک کیا گیا، جن میں سے 65 فیصد کا تعلق پاکستان سے تھا اور پہلگام حملے کے تین ملزم بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں مقامی شدت پسندوں کی تعداد کم ہو گئی ہے اور نئی بھرتیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے آٹھ کیمپ اب بھی متحرک ہیں، جن میں دو انٹرنیشنل بارڈر کی مخالف سمت اور باقی لائن آف کنٹرول کی مخالف سمت پر ہیں، اور ان پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

جنرل اوپیندر دویدی کے مطابق، آپریشن سندور کے بعد دہشتگردوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ آپریشن تینوں افواج کے بہترین اشتراک کی مثال ہے۔

پاکستان کی جانب سے ان دعوؤں پر ابھی تک کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا، لیکن ماضی میں دفتر خارجہ نے ایسے بیانات کی تردید کی تھی۔

پسِ منظر: مئی 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان فضائی جھڑپیں ہوئی تھیں، جس میں دونوں جانب سے لڑاکا طیارے گرے اور میزائل داغے گئے۔ ان جھڑپوں میں انڈیا نے پاکستان کے خلاف اپنے حملوں کو ’آپریشن سندور‘ جبکہ پاکستان نے جوابی کارروائی کو ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا نام دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *