سب انسپکٹر پر سنگین الزامات، مبینہ تشدد سے حاملہ خاتون کا حمل ضائع ہونے کا دعویٰ

لاہور(بولونیوز)تھانہ ہنجروال سے ایک سنگین نوعیت کا مبینہ واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر عابد پر زیرِ حراست خواتین پر تشدد، غیر قانونی حراست اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

متاثرہ خاندان کے مطابق سب انسپکٹر عابد پر اقصیٰ نامی لڑکی کو ہراساں کرنے کے الزامات پہلے ہی منظرِ عام پر آ چکے تھے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد سب انسپکٹر عابد نے مبینہ طور پر انتقامی کارروائی کرتے ہوئے اقصیٰ کے گھر پر چھاپہ مارا، گھر کا سامان توڑا اور اس کے کم عمر بھائی کو حراست میں لے لیا۔

خاندان کا مزید الزام ہے کہ اقصیٰ کی بھابھی کو بھی سب انسپکٹر عابد نے تھانہ ہنجروال میں تقریباً 10 روز تک غیر قانونی حراست میں رکھا۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون دو ماہ کی حاملہ تھیں اور دورانِ حراست مبینہ تشدد کے نتیجے میں ان کا حمل ضائع ہو گیا۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ حمل ضائع ہونے کے باوجود خاتون کو تھانے میں ہی رکھا گیا۔

الزامات کے مطابق اس دوران خاتون کے شوہر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور متاثرہ خاتون کے سامنے اسے بدترین تشدد کیا گیا۔ مزید یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ سب انسپکٹر عابد نے خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات کیں اور دھمکیاں دیں۔

تاحال پولیس حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا، جبکہ واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *