کراچی میں مختلف مقدمات میں ضمانتیں اور عدالتوں کی کارروائیاں: تفصیلی رپورٹ

کرایچ(بولونیوز)مختیار لاشاری کی آئینی پٹیشن ملیر کے رہائشی مختیار لاشاری نے ایس ایچ او تھانہ بن قاسم ٹاؤن احسان مروت کی جانب سے ایک لاکھ روپے نہ دینے پر مبینہ طور پر چوری کے جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنے اور غیر قانونی ہراسمنٹ کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی۔

پٹیشن میں گورنمنٹ آف سندھ، ڈی جی رینجرز، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایس ایس پی انویسٹیگیشن، ایس پی آپریشن پولیس، ایس ایچ او بن قاسم ٹاؤن، اے ایس آئی راشد، اور سب انسپکٹر محمد یونس کو فریق بنایا گیا ہے۔

مختیار لاشاری کے وکیل لیاقت علی خان گبول کے مطابق:

14 فروری 2026 کو ایس ایچ او احسان مروت اور دیگر پولیس اہلکاروں نے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔

رقم دینے سے انکار کرنے پر پٹیشنر کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا۔

پٹیشنر کو تھانے میں متعدد جھوٹے مقدمات میں شامل کرنے اور ہراساں کرنے کی دھمکیاں دی گئی۔

سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار بھنبھرو نے تمام جوابداروں کو 22 اپریل 2026 تک نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی اور سماعت ملتوی کردی۔

2. ملزم ظفر کی درخواست ضمانت
ملزم ظفر، جس پر دھوکہ دہی، بددیانتی اور فراڈ کے الزامات تھے، نے ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 9 کراچی ساؤتھ سے مبلغ 50 ہزار روپے میں درخواست ضمانت منظور کرائی۔

ظفر پر الزام تھا کہ اس نے مدعی مقدمہ بلال جمال سے کاروبار کی مد میں 20 لاکھ روپے لئے تھے، اور رقم طلب کرنے پر ٹال مٹول کی۔

ملزم نے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

3. لڑائی جھگڑا، مارپیٹ اور زبردستی ننگا کرنے کے الزام میں آٹھ ملزمان کی ضمانت
فیاض، ملازم حسین، نصیر حسین، رشید حسین، محمد جاوید اور محمد ریاض سمیت آٹھ ملزمان کی درخواست ضمانت جوڈیشنل مجسٹریٹ کورٹ نمبر 6 کراچی ساوتھ نے منظور کی، مچلکے کی رقم 30 ہزار روپے مقرر کی گئی۔

ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے مدعی مقدمہ خالد کو مارا، زبردستی ننگا کیا اور موبائل فون کا ڈیٹا منتقل کیا۔

4. میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم: مارپیٹ کے کیس میں
سندھ ہائیکورٹ نے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سندھ سروسز ہاسپٹل کو زخمی محمد شریف کے زخموں کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیا۔

عدالت نے میڈیکل بورڈ کو ایک ماہ میں رپورٹ جمع کرانے اور ڈاکٹر عامر محفوظ کے خلاف انکوائری کے لیے سیکرٹری ہیلتھ کو بھی آگاہ کرنے کا حکم دیا۔

ملزمان محمود الحسن، عبدالرحمن، عبداللہ اور محمد حماد پر الزام تھا کہ انہوں نے مدعی مقدمہ کے سر پر لوہے کے راڈ سے حملہ کیا، جس سے 52 ٹانکے لگے۔

5. ڈکیٹی کے مقدمہ میں شہزاد عرف شہزادو کی ضمانت
ملزم شہزاد عرف شہزادو کی درخواست ضمانت ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 12 کراچی ایسٹ نے 30 ہزار روپے میں منظور کی۔

الزام تھا کہ اس نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر مدعی مقدمہ اعزاز خان سے موٹر سائیکل، موبائل فون اور نقدی چھینی۔

وکیل کے مطابق پولیس نے ملزم کو ذاتی دشمنی کی بنا پر جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا۔

ملزم سے برآمد موٹر سائیکل اس کی اپنی ہے اور دیگر کوئی برآمدگی نہیں۔

6. مقدمات میں وکلا کی نمائندگی
تمام کیسز میں وکیل لیاقت علی خان گبول نے مدعیان اور ملزمان کی نمائندگی کی، عدالت نے متعدد ضمانتیں منظور کیں اور رپورٹیں طلب کیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *