ایران کا اسرائیل پر ہائپر سونک ’’الفتح‘‘ میزائل حملہ، خطے میں شدید تشویش
تہران / تل ابیب(بولونیوز)ایران نے اسرائیل پر ہائپر سونک الفتح میزائل داغنے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ حملہ حالیہ اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔
عسکری ماہرین کے مطابق ہائپر سونک میزائل جدید جنگی ٹیکنالوجی کا خطرناک ترین ہتھیار تصور کیا جاتا ہے، جس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی انتہائی تیز رفتار اور راستہ بدلنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔
رفتار:
ہائپر سونک میزائل آواز کی رفتار سے کم از کم پانچ گنا زیادہ (میک 5 یا اس سے زائد) رفتار سے سفر کرتا ہے۔ اس قدر تیز رفتار کی وجہ سے موجودہ فضائی دفاعی نظام کے لیے اسے بروقت ٹریک کرنا اور مار گرانا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔
راستہ بدلنے کی صلاحیت:
روایتی بیلسٹک میزائل عام طور پر ایک طے شدہ قوس میں سفر کرتے ہیں، تاہم ہائپر سونک میزائل فضا کی نچلی سطح پر پرواز کرتے ہوئے دورانِ سفر اپنا راستہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے ریڈار سسٹمز کے لیے غیر متوقع بنا دیتی ہے اور ہدف تک پہنچنے کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائپر سونک میزائلوں کا استعمال خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال اس مخصوص میزائل حملے کے اثرات یا نقصانات کے حوالے سے مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سکیورٹی الرٹ بدستور برقرار ہے۔
عالمی برادری کی نظریں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی پر مرکوز ہیں، جبکہ صورتحال کے مزید بگڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔


