نیب ترمیمی قوانین،دائرہ اختیارسےمتعلق درخواست کی سماعت مکمل، اہم فیصلے سامنے آ گئے
کراچی(بولونیوز)سندھ ہائی کورٹ میں نیب ترمیمی قوانین کے دائرہ اختیار سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے نیب اپیلوں کو قابل سماعت قرار دے دیا جبکہ دائرہ اختیار سے متعلق متفرق درخواست کو مسترد کر دیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ نیب قوانین میں ترامیم کا اطلاق پہلے سے فیصلہ شدہ مقدمات اور اپیلوں پر نہیں ہوتا۔ نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد سندھ ہائی کورٹ کو اپیل کی سماعت کا اختیار نہیں، اور پچاس کروڑ روپے سے کم مالیت کے مقدمات اب نیب کے دائرہ اختیار سے باہر آ گئے ہیں۔
درخواست گزار کے خلاف مقدمے میں رقم مقررہ حد سے کم تھی، اس لیے اپیل سمیت تمام کارروائی متعلقہ فورم منتقل کی جائے۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 2006 میں ملزم پرویز ڈاہری کو پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی اور نیب ترمیمی ایکٹ 2023 کے تحت ترمیم سے قبل کے فیصلے موثر رہیں گے۔
عدالت نے کہا کہ قانون سازوں نے ترمیم میں جان بوجھ کر لفظ “اپیل” شامل نہیں کیا، جس سے بظاہر زیر التوا اپیلوں کو ترامیم کے تحت منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اگر اپیل کو شامل کیا جائے تو پہلے سے دیئے گئے فیصلوں کی شق بے معنی ہو جائے گی۔
عدالت کے مطابق دائرہ اختیار کی منتقلی میں اپیل کو ٹرائل کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا، اور نیب فیصلے کے خلاف اپیل سندھ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں رہے گی۔


