خامنہ ای کی نمازِ جنازہ سے متعلق خبروں پر ابہام، سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی

تہران(بولونیوز)سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع میں یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تاریخی نمازِ جنازہ تہران کے بعد قُم میں بھی ادا کی گئی، جبکہ میت کو عراق منتقل کرنے اور جمعرات کو آبائی شہر مشہد میں تدفین کا بھی کہا جا رہا ہے۔

تاہم ایرانی حکام یا سرکاری ذرائع کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ معتبر بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس دعوے کی تائید موجود نہیں، جس کے باعث اس خبر کی صداقت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی حساس خبریں بغیر تصدیق کے پھیلانا گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ صرف مستند اور سرکاری ذرائع سے آنے والی اطلاعات پر ہی اعتماد کریں۔

نوٹ: اس خبر میں بیان کردہ دعوے غیر مصدقہ ہیں؛ مستند تصدیق سامنے آنے کی صورت میں تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *