بھارت نے پانی روکا تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا، پانی ڈائیورٹ کرنا اعلانِ جنگ ہوگا: صوبائی وزیر آبپاشی

حیدرآباد(بولونیوز) سندھ کے صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا، کیونکہ ریاست پاکستان اپنی 24 کروڑ عوام کو پیاسا مرنے کے لیے بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتی۔

حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پانی سے متعلق معاہدوں پر بھارت کی جانب سے عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری زمینیں جس پانی پر آباد ہیں، اگر اس کا رخ موڑا گیا تو اسے پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

جام خان شورو نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے پانی کے معاملے پر یکطرفہ طور پر تمام خط و کتابت بند کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے پانی ڈائیورٹ کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کیے، حتیٰ کہ پتھروں کا پہلا ٹرک بھی اتارا، تو پاکستان اسے انتہائی سنجیدگی سے لے گا۔ ان کے بقول دنیا سے منتیں کرنے کا وقت گزر چکا، اب پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ بھارت پاکستان کی صلاحیت سے بخوبی واقف ہے اور ماضی میں بھی اسے آزما چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی روکنے کی صورت میں پاکستان صرف اقوامِ متحدہ کی جانب نہیں دیکھے گا بلکہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہلے ہی پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ اس مصنوعی کمی کا سب سے مہلک اثر انڈس ڈیلٹا پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں جہاں باقاعدہ معاہدہ بھی موجود نہ ہو وہاں بھی پانی نہیں روکا جاتا، مگر بھارت معاہدے کے باوجود بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

جام خان شورو کا کہنا تھا کہ بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کرتا آ رہا ہے، تاہم ریاستِ پاکستان اپنے عوام کے پانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جائے گی اور اپنے شہریوں کو پیاسا مرنے نہیں دے گی۔

نوٹ: خبر میں فوجی کارروائی اور ’’اعلانِ جنگ‘‘ سے متعلق تمام جملے مقرر کے بیانات کے طور پر منسوب کیے گئے ہیں، حقائق کے طور پر پیش نہیں کیے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *