سائٹ کراچی صنعتکاروں کا بجٹ 2026-27 پر اظہارِ تشویش، صنعتی بحالی کے لیے ناکافی قرار

کراچی(بولونیوز) سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صنعتکاروں نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو صنعتی بحالی کے لیے ناکافی قرار دیتے ہوئے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمان فدا نے کہا کہ حکومت کے بعض اقدامات کو محتاط انداز میں سراہا جا سکتا ہے، تاہم مجموعی طور پر بجٹ صنعتی شعبے کو درپیش بحرانوں کا حل پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق سپر ٹیکس میں معمولی کمی اور توانائی کے نرخوں میں کوئی واضح ریلیف نہ ہونے کے باعث نصف صلاحیت پر چلنے والی صنعتیں دوبارہ فعال نہیں ہو سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعت کو ایک انقلابی نوعیت کے بجٹ کی ضرورت تھی، تاہم اسے ایک معمول کا بجٹ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق برآمدی شعبے خصوصاً ٹیکسٹائل، لائٹ انجینئرنگ، کیمیکلز اور پروسیسڈ گڈز کے کاروباری افراد نے بھی بجٹ پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

سائٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ایکسپورٹ ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کو محض علامتی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے جبکہ فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی کا دیرینہ مطالبہ ایک بار پھر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

صنعتکاروں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ برآمد کنندگان کے اربوں روپے کے جی ایس ٹی اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کے لیے کوئی واضح طریقہ کار بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے باعث کاروباری سرمائے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بلند صنعتی بجلی کے نرخ، سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول کی توسیع اور سخت جرمانوں کا نیا نظام صنعتوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

عبدالرحمان فدا نے کہا کہ ٹیکس دینے والا صنعتی شعبہ پہلے ہی مہنگی توانائی، تاخیر سے ریفنڈز اور بھاری ٹیکسز کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اس صورتحال میں عالمی سطح پر مقابلہ کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی سے فنانس بل کی منظوری سے قبل ان خامیوں کو فوری طور پر ترامیم کے ذریعے دور کیا جائے، بصورت دیگر صنعتی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *